سیلاب کی تباہ کاریوں کی بڑی وجہ تجاوزات، جنگلات کی تباہی اور ادارہ جاتی ناکامی ہے، شیری رحمان

سیلاب کی تباہ کاریوں کی بڑی وجہ تجاوزات، جنگلات کی تباہی اور ادارہ جاتی ناکامی ہے، شیری رحمان

سینیٹر شیری رحمان نے حالیہ تباہ کن سیلاب کو عالمی ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جاری غیر قانونی تجاوزات، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور ادارہ جاتی ناکامی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ 2025 کے میگا مون سون نے خیبرپختونخوا کے اضلاع سوات، چترال، دیر، کوہستان اور شانگلہ کو شدید متاثر کیا جہاں لینڈ سلائیڈنگ سے پورے کے پورے دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔

شیری رحمان کا کہنا ہے کہ دریاؤں، ندی نالوں اور سبز علاقوں پر بے قابو تعمیرات، لینڈ یوز قوانین میں کرپشن کے ذریعے تبدیلی اور قدرتی پانی کے بہاؤ پر قبضوں نے قدرتی تحفظ کو ختم کر دیا ہے، مارگلہ سے خیبرپختونخوا تک ہریالی پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات تیزی سے جاری ہیں،

سینیٹر شیری رحمان نے جنگلات کی تباہی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جنگلاتی رقبہ جنوبی ایشیا میں سب سے کم صرف 5 فیصد ہے اور گزشتہ 33 برسوں میں اس میں 18 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سوات میں مقامی افراد کے مطابق 40 فیصد جنگلات پہلے ہی تباہ ہو چکے ہیں اور اگر یہی روش جاری رہی تو یہ شرح 70 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب سے تباہ گھروں کی دوبارہ تعمیر اور تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

انہوں نے ملین ٹری سونامی منصوبے کو کرپشن اور سیلاب کی نذر ہونے والا منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ دیودار اور چیڑ کے قدیم درختوں کو لکڑی مافیا بے دریغ کاٹ رہی ہے جب کہ 2002 اور 2017 کی حکومتی پابندیاں ناکام ثابت ہو چکی ہیں۔

Scroll to Top