سیلابی صورتحال! فیلڈ مارشل کی ہدایت پر پاک فوج متحرک، 25 ہزار متاثرین محفوظ مقام پر منتقل ،ترجمان پاک فوج

سیلابی صورتحال! فیلڈ مارشل کی ہدایت پر پاک فوج متحرک، 25 ہزار متاثرین محفوظ مقام پر منتقل ،ترجمان پاک فوج

ملک بھر میں حالیہ بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈز سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے دوران پاک فوج، این ڈی ایم اے اور دیگر اداروں کی امدادی کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔

فیلڈ مارشل کی ہدایت پر پاک فوج کے دستے، ریسکیو ٹیمیں اور آرمی ایوی ایشن فورسز سیلاب زدہ علاقوں میں دن رات متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے موجودہ صورتحال اور حکومتی اقدامات پر بریفنگ دی۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق، پاک فوج کے اہلکار اب تک 25 ہزار سے زائد متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکے ہیں۔ 6 ہزار سے زائد افراد کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے جبکہ میڈیکل بٹالین اور سی ایم ایچ کی ٹیمیں بھی خیبرپختونخوا کے شدید متاثرہ علاقوں میں روانہ کر دی گئی ہیں۔

حکومتی اقدامات، وزیر اطلاعات کی بریفنگ
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ اربن فلڈنگ سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔وزیراعظم کی ہدایت پر ریلیف آپریشن تیز کیا گیا ہے۔شانگلہ، باجوڑ اور سوات میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا، تاہم 70 فیصد بحالی مکمل ہو چکی ہے۔

مالاکنڈ اور بشام روڈ بحال، این-90 شاہراہ بھی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے۔اب تک 1200 خیمے متاثرہ علاقوں میں پہنچائے جا چکے ہیں۔پمز ہسپتال سے خصوصی میڈیکل ٹیم بھی متاثرہ علاقوں میں روانہ کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح پیغام دیا ہے کہ ’’اس آزمائش میں ہم سب ایک ہیں، اور نیشنل ریسپانس کے تحت اس آفت پر قابو پایا جائے گا۔‘‘

چیئرمین این ڈی ایم اے: خطرات اور تیاریوں سے آگاہی
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے مطابق670 افراد جاں بحق اور 1000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔شمالی علاقوں میں گلیشیئر پگھلنے اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔17 اگست سے جاری ریسکیو آپریشن میں 25 ہزار متاثرین کو بچایا جا چکا ہے۔

23 اگست تک بارشوں کا نیا اسپیل متوقع ہے، جس کے لیے تمام ادارے الرٹ ہیں۔پی ایم راشن پیکج کے تحت خیبرپختونخوا کے پانچ اضلاع میں امدادی سامان کی تیسری کھیپ روانہ کی جا چکی ہے۔شاہراہوں کی بحالی کا 50 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے جاری ہے۔

متاثرین کیلئے پیغام، حکومت اور ادارے ساتھ ہیں
پریس کانفرنس کے اختتام پر کہا گیا کہ پاک فوج، این ڈی ایم اے، وفاقی و صوبائی حکومتیں باہمی ربط سے کام کر رہی ہیں تاکہ متاثرین کو فوری امداد پہنچائی جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اور ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں۔

Scroll to Top