کاشف الدین سید
پشاور: محکمہ محنت کے ذیلی ادارے ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (ESSI) میں بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے جس سے قومی خزانے کو تقریباً نو کروڑ بیس لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔
اینٹی کرپشن خیبرپختونخوا نے شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے تفصیلی انکوائری کی جس میں الزامات کو درست پایا گیا۔
تحقیقات کے مطابق ESSI کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں میں ڈیلی ویجز ملازمین کی خدمات نجی کمپنیوں کے ذریعے حاصل کی گئیں، تاہم ان ملازمین کی بہبود کے لیے کمپنیوں سے کٹوتی کی جانے والی چھ فیصد رقم وصول نہیں کی گئی۔ اس مالی غفلت کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری میں ذمہ دار افسران اور متعلقہ حکام کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جس کے بعد ان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 406، 409، 419 اور 420 کے تحت ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔
ایف آئی آر میں ESSI کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عامر وزیر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مامون ظفر، اسرار احمد، نور محمد، محمد نواز اور کلیم اللہ کو نامزد کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، تین نجی کمپنیوں کے سربراہان بھی ایف آئی آر کا حصہ ہیں جن میں ہیلو ٹیک کے ڈائریکٹر غلام جیلانی، احمد ایسوسی ایٹس کے سی ای او تیمور احمد اور سن رائز انٹرپرائز کے ایم ڈی ولایت خان شامل ہیں۔
اینٹی کرپشن کی جانب سے کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مامون ظفر، نور محمد اور محمد نواز کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم یوتھ لون اسکیم 2025 ،درخواست دینےکاطریقہ کار سامنے آگیا ہے
حکام کے مطابق تحقیقات مزید آگے بڑھائی جا رہی ہیں اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔





