پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما زرتاج گل کیخلاف الیکشن کمیشن کو مزید کارروائی سے روک دیا ہے۔ عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
زرتاج گل کی نااہلی کیخلاف دائر درخواست پر سماعت جسٹس وقار احمد اور جسٹس اعجاز خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ انسداد دہشتگردی عدالت فیصل آباد نے ان کی مؤکلہ کو 10 سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد 5 اگست کو الیکشن کمیشن نے دیگر ارکان کیساتھ زرتاج گل کو بھی نااہل قرار دے دیا۔
جسٹس وقار احمد نے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کیوں نہیں گئے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ عمر ایوب اور شبلی فراز کی درخواستیں بھی اسی نوعیت کی ہیں اور یہاں زیر سماعت ہیں، لہٰذا یکساں نوعیت کے کیسز کو ایک ہی عدالت میں سنا جانا مناسب ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ درخواست بھی دیگر مقدمات کیساتھ سنی جائیگی، اور آئندہ سماعت پر دائرہ اختیار کے حوالے سے دلائل سنے جائینگے۔
عدالت نے الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے مزید کارروائی روکنے کا حکم دیا اور سماعت ملتوی کر دی۔
یہ حکم زرتاج گل کے لیے قانونی ریلیف تصور کیا جا رہا ہے، جس سے انہیں وقتی طور پر الیکشن کمیشن کی کارروائی سے مہلت مل گئی ہے۔





