پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رکن صوبائی اسمبلی ارباب عثمان خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی کے تمام عوامل اور صلاحیتیں موجود ہیں، اور ملک دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے، بشرطیکہ پائیدار امن، مضبوط حکمت عملی اور اہل قیادت میسر ہو۔
انہوں نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ اگر ہم نے امن قائم نہ کیا تو اس کا نقصان بھی ہمیں ہی بھگتنا پڑے گا، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ امن کے قیام کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں پختونوں نے دی ہیں۔
ارباب عثمان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی روایتی سوچ بدلیں اور ایسا فارمولا تلاش کریں جس سے عوام کو بھی فائدہ ہو اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی۔
انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے منتخب نمائندوں سے سوال ضرور کریں کہ وہ اسمبلی میں جا کر کیا کر رہے ہیں؟ صرف بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر ایوانوں میں جانا مسائل کا حل نہیں۔
پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے ارباب عثمان خان نے کہا کہ یہ کہنا کہ عمران خان بہتر ہیں مگر ٹیم نہیں، دراصل ایک بڑی ناکامی کو چھپانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دو تہائی اکثریت کے باوجود تحریک انصاف کے پاس نہ صلاحیت ہے، نہ کوئی واضح حکمت عملی۔ وہ صبح ایک وزیر اعلیٰ مقرر کرتے ہیں اور شام کو دوسرا، جبکہ دیگر صوبوں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : این ایف سی میں پختونخوا کا 20 فیصد حصہ آئینی حق ہے، سمجھوتہ ممکن نہیں، طارق افغان
انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ارباب عثمان نے کہا کہ بدقسمتی سے پشتون جذبات میں فیصلے کرتے ہیں، اپنے مفاد میں نہیں۔
ہم نے کھلے عام چیلنج کیا ہے کہ 2013، 2018 اور 2024 کے بیلٹ پیپرز نکال کر دیکھ لیے جائیں، سچ سامنے آ جائے گا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کیسے بنی۔
انہوں نے پختون عوام پر زور دیا کہ وہ اب باشعور فیصلے کریں، کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں اور اپنا اجتماعی سیاسی کردار مضبوط بنائیں تاکہ خطے میں امن، ترقی اور بااختیار حکومت کا خواب حقیقت بن سکے۔





