پاکستانی شہریوں سے شادی کرنیوالی تین افغان خواتین نے ملک بدری سے بچنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ درخواست گزار خواتین نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے شوہر پاکستانی شہری ہیں اور ان کے بچے بھی پاکستانی شہریت رکھتے ہیں، اس کے باوجود انہیں افغانستان واپس بھیجنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی، جہاں درخواست گزاروں کی نمائندگی معروف قانون دان بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی قانون کے مطابق، پاکستانی شہریوں سے شادی کرنے والی غیرملکی خواتین شہریت کی حق دار ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار خواتین کے بچوں کے ’’بے فارم‘‘ بھی جاری ہو چکے ہیں، جو ان کی پاکستانی شہریت کا ثبوت ہیں۔ تاہم اس کے باوجود متعلقہ ادارے ان خواتین کو ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔
وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اسی نوعیت کا ایک مقدمہ پہلے ہی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، لہٰذا موجودہ کیس کو بھی وہاں منتقل کیا جائے تاکہ ایک ہی نوعیت کے معاملات کو یکجا ہو کر سنا جا سکے۔
عدالت نے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھجوانے کا حکم دے دیا۔





