خیبرپختونخوا حکومت نے شفافیت اور تیز رفتار سروس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے صوبے بھر میں ای اسٹامپنگ کا نظام نافذ کر دیا ہے۔ اس ضمن میں رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے تحت باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، یکم ستمبر 2025 سے صوبے میں صرف ای اسٹامپ پیپرز کا استعمال ہوگا، جبکہ دستی اسٹامپ پیپرز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ رجسٹریشن دفاتر سمیت تمام متعلقہ ادارے اب صرف ڈیجیٹل اسٹامپنگ کو قبول کریں گے۔
محکمہ ریونیو کے مطابق، اس فیصلے کا بنیادی مقصد اسٹامپ پیپرز کے نظام میں موجود خامیوں کو ختم کرنا، جعل سازی کی روک تھام اور عوام کو تیز، شفاف اور قابلِ اعتماد خدمات کی فراہمی ہے۔ اس کے علاوہ، ای اسٹامپنگ کے ذریعے سرکاری محصولات میں اضافہ اور ریکارڈ کی درستگی کو بھی ممکن بنایا جائے گا۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام رجسٹرارز کو اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔ رجسٹریشن دفاتر میں دستی اسٹامپ پیپرز کا استعمال فوری طور پر ختم کر دیا گیا ہے، اور یکم ستمبر کے بعد کوئی بھی دستی اسٹامپ قبول نہیں کیا جائے گا۔
یہ اقدام خیبرپختونخوا میں ڈیجیٹل گورننس اور عوامی خدمات کی خودکار نظام کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، ای اسٹامپنگ سے نہ صرف کرپشن کی گنجائش کم ہوگی بلکہ سائلین کو طویل قطاروں اور غیر ضروری پیچیدگیوں سے بھی نجات ملے گی۔





