وفاقی حکومت نے اعلیٰ سطح پر اہم تقرریوں اور تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جب کہ نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے اسٹریٹیجک پالیسی پلاننگ سیل میں خدمات انجام دینے والے دو ریسرچ اسپیشلسٹس نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے عباس حسن اور زین العابدین کے استعفے منظور کر لیے ہیں جو 6 اگست 2025 سے مؤثر ہوں گے۔
دوسری جانب، گریڈ 22 کے افسر محمد اسلم غوری، جو کہ خزانہ ڈویژن (ملٹری فنانس وِنگ) میں سپیشل سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ہی گریڈ 21 کے افسر محمد اعجاز الحق، جو اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو اسلام آباد کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے، کو تین سالہ ڈیپوٹیشن پر ملٹری فنانس وِنگ میں ایڈیشنل سیکریٹری تعینات کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح صنعت و پیداوار ڈویژن میں جوائنٹ سیکریٹری عزرا جمالی کو تبدیل کر کے انہیں بھی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جب کہ ایف بی آر میں چیف ایڈمن و فنانس کے عہدے پر تعینات فریدون اکرم کو جوائنٹ سیکریٹری صنعت و پیداوار مقرر کر دیا گیا ہے۔
ادھر اقتصادی امور ڈویژن کی سیکشن افسر نازیہ حیات اور سمندر پار پاکستانیز ڈویژن کے افسر یاسر چوہدری کو طویل رخصت کے باعث او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔
پولیس سروس سے تعلق رکھنے والے گریڈ 19 کے افسر شاکر حسین داوڑ، جو اس وقت ڈی جی سیف سٹی اسلام آباد کے طور پر تعینات تھے، ان کی خدمات خیبرپختونخوا حکومت کے سپرد کر دی گئی ہیں، جب کہ گریڈ 18 کی افسر عائشہ گل، جو تقرری کی منتظر تھیں، ان کی خدمات بھی صوبہ خیبرپختونخوا کو منتقل کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : بانی سے ملاقات کیلئے امریکا سے آنیوالی خاتون اڈیالہ جیل پہنچ گئی
ان تمام تقرریوں، تبادلوں اور استعفوں کے باقاعدہ نوٹیفکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کر دیے گئے ہیں۔





