خیبرپختونخوا : صحت کارڈ پلس کے تحت ٹرانسپلانٹ اینڈ امپلانٹ منصوبے کی حقیقت سامنے آگئی

محمد اعجاز آفریدی

پشاور: صحت کارڈ پلس کے تحت خیبرپختونخوا کے تمام شہریوں کو مفت ٹرانسپلانٹ اور امپلانٹ کی سہولت فراہم کرنے کے دعوے کے برعکس “ٹرانسپلانٹ اینڈ امپلانٹ منصوبے” کے اصل حقائق سامنے آگئے ہیں۔

منصوبے کے مطابق ایک سال میں صرف 84 گردوں کی پیوندکاری، 64 جگر کی پیوندکاری اور 90 بون میرو ٹرانسپلانٹ کیے جا سکیں گے حالانکہ صوبائی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس سہولت سے صوبے کے تمام شہری مستفید ہوں گے۔

اس وقت خیبرپختونخوا کے مختلف اسپتالوں میں ہزاروں مریض گردوں کے عارضے میں مبتلا ہیں اور تسلسل کے ساتھ ڈائیلائسز کروا رہے ہیں، جبکہ جگر کے امراض میں مبتلا مریضوں کی تعداد بھی ہزاروں میں بتائی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ان مریضوں کو فوری طور پر گردوں کی پیوندکاری کی ضرورت ہے، تاہم ڈونرز کی کمی اور منصوبے میں پیوندکاری کی محدود تعداد کے باعث شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔

پختون ڈیجیٹل کو دستیاب سرکاری شواہد کے مطابق خیبرپختونخوا کابینہ نے اپنے 30 ویں اجلاس میں صحت کارڈپلس میں ٹرانسپلانٹ اینڈ امپلانٹ منصوبے کو شامل کرنے کی منظوری دی تھی جس کے لیے 4 ہزار 138 ملین روپے مختص کیے گئے۔

شواہد کے مطابق ٹرانسپلانٹ اینڈ امپلانٹ منصوبے کے تحت ایک سال میں صرف 84 گردوں کی پیوندکاریاں کی جائیں گی۔ فی مریض پیوندکاری پر تخمینہ لاگت 19 لاکھ 50 ہزار روپے لگائی گئی ہے جس کے لیے مجموعی طور پر 164 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

صرف 64 مریضوں کو جگر کی پیوندکاری کی سہولت مل سکے گی۔ ایک جگر کی پیوندکاری پر 73 لاکھ روپے کا خرچہ آئے گا، جس کے لیے 467 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ منصوبے میں ایک سال کے دوران صرف 90 مریضوں کو بون میرو ٹرانسپلانٹ کی سہولت دی جائے گی۔

فی مریض 37 لاکھ روپے لاگت کا تخمینہ ہے، جس کے لیے 333 ملین روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ اس وقت صوبے میں تھیلیسیمیا اور اے پلاسٹک انیمیا کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ بلڈ کینسر جیسے مرض میں مبتلا مریض بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔

کابینہ نے 100 مریضوں کے لیے کوکلیئر امپلانٹ کی بھی منظوری دی ہے، جس پر 225 ملین روپے کے اخراجات آئیں گے۔ اس کے علاوہ منصوبے میں “دیگر اخراجات” کے نام پر 1,200 ملین روپے کی بھی منظوری دی گئی ہے، تاہم سرکاری دستاویزات میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ یہ رقم کن امراض کے علاج پر خرچ کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں زیادہ توجہ تھیلیسیمیا کے مریضوں پر مرکوز کی گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس منصوبے کے تحت 3 ہزار تھیلیسیمیا کے مریضوں کا علاج کیا جائے گا، حالانکہ اس سے قبل بھی تھیلیسیمیا کے لیے الگ منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں اور صوبے میں متعدد پرائیویٹ بلڈ ٹرانسفیوڑن مراکز پہلے سے فعال ہیں۔

اس حوالے سے مشیر برائے صحت خیبرپختونخوا کا موقف ہے کہ ٹرانسپلانٹ اینڈ امپلانٹ منصوبے سے خیبرپختونخوا کے تمام شہری مستفید ہو رہے ہیں اور یہ منصوبے پورے صوبے کے عوام کے لیے ہیں۔

Scroll to Top