پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 38 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں کابینہ اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور مختلف محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز صوبے کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کا نشانہ بننے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور افغانستان میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی سے کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بروقت ریسکیو اور ریلیف آپریشنز پر سول انتظامیہ، ضلعی حکام، ریسکیو اداروں اور تمام صوبائی محکموں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار اتنی جلدی متاثرین کو مالی امداد فراہم کی گئی، جو ہماری حکومت کی بہتر حکمرانی اور مؤثر انتظامی کارکردگی کا ثبوت ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کا اعتماد حکومت پر بحال ہوا ہے، جبکہ سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے مال مویشیوں کے نقصانات کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جا رہا ہے اور اس مد میں مالی معاونت بڑھانے پر غور جاری ہے۔ اسی طرح تباہ شدہ سرکاری املاک کی بحالی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا۔
افغانستان میں زلزلے سے ہونے والی تباہی پر اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ہمارا انسانی اور اخلاقی فرض ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں افغان بہن بھائیوں کی مدد کریں۔
اُنہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے زلزلہ متاثرین کے لیے فوری طور پر 35 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان افغانستان روانہ کیا ہے، اور مزید امداد کا سلسلہ جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں : عالمی و مقامی سطح پر سونے کے مہنگا ہونے کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا
انہوں نے اعلان کیا کہ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں خیموں اور ادویات کی فوری ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید 1000 خیمے اور طبی سامان بھجوایا جائے گا۔ اس کے علاوہ راشن اور زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔





