پاکستان فلار ملز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کو گندم کی ترسیل روکنے کے باعث صوبے میں غذائی قلت پیدا ہونے کا شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت گندم خیبرپختونخوا بھیجنے کی اجازت نہیں دے رہی، جس سے نہ صرف آٹے کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے بلکہ فلور ملز اور مزدوروں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان کا سامنا ہے۔
معاشی و سماجی نقصان کا خدشہ
ایسوسی ایشن کے مطابق، گندم کی ترسیل روکنے سےخیبرپختونخوا میں آٹے کی کمی اور غذائی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔فلار ملز کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔گندم ترسیل سے منسلک سینکڑوں مزدوروں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
سیلاب زدہ فصلیں اور بڑھتے خدشات
ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ حالیہ سیلاب کے باعث چاول اور گندم کی فصلیں پہلے ہی شدید نقصان کا شکار ہو چکی ہیں، ایسے میں بین الصوبائی گندم ترسیل کی بندش صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔
وفاقی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ
فلار ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا کی فلور ملز کو گندم کی فراہمی کے لیے فوری اور پائیدار حل نکالے۔ بیان میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کی زیادہ تر گندم کی ضروریات پنجاب اور سندھ سے پوری کی جاتی ہیں، اس لیے بین الصوبائی سپلائی کا بند ہونا معاشی و انسانی بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
رقومات کی ادائیگی کے باوجود ترسیل بند
ایسوسی ایشن کے مطابق، خیبرپختونخوا کی فلور ملز گندم ڈیلرز اور کاشت کاروں کو گندم کی ادائیگی کر چکی ہیں، لیکن پنجاب سے ترسیل کی اجازت نہ ملنے کے باعث صوبے کی ملز کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔





