وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا افغانستان سے تعلقات اور جرگے پر اہم بیان

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے افغانستان جرگہ بھیجنے سے متعلق ان کی درخواست پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

پشاور میں نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دہشت گردی صوبے کا ایک بڑا مسئلہ ہے، اور چونکہ ہمارا صوبہ افغانستان کے ساتھ واقع ہے جہاں کئی دہائیوں سے جنگ جاری ہے، اس لیے اس کے اثرات ہمارے صوبے پر بھی پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل مذاکرات کی بات کر رہے ہیں تاکہ تمام فریقین کو شامل کیا جا سکے۔ ڈیڑھ سال سے وفاقی حکومت کو جرگہ بنانے کی درخواست دے رہے ہیں، جس پر تمام مشران اور اقوام متفق ہیں، اور اب وفاقی حکومت نے بھی ان کی بات پر آمادگی ظاہر کی ہے اور جرگہ کی حمایت کی ہے۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بات چیت وزارت خارجہ کا اختیار ہے، اور جن لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے تعلقات اچھے ہیں، ان کے لیے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان کا پاسپورٹ 9 مئی کو بلاک ہو چکا ہے۔

وزیراعلیٰ بننے کے باوجود بھی پاسپورٹ بحال نہیں ہوا۔ بانی پی ٹی آئی نے انہیں افغانستان جانے کا پیغام دیا ہے، مگر ان کی ملاقات بانی پی ٹی آئی سے نہیں ہونے دی جا رہی۔

یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کاروائیاں،مضرصحت اور جعلی خوراک تیار کرنے والے یونٹس سیل

انہوں نے مزید کہا کہ اگر جرگے میں افغانستان جانا پڑا تو وہ کیسے جائیں گے، کیونکہ پاسپورٹ کے لیے درخواست دے رکھی ہے مگر ابھی تک پاسپورٹ نہیں ملا۔

افغانستان میں جرگہ میں شرکت کے لیے پاسپورٹ ضروری ہے، اور اگر بانی پی ٹی آئی اجازت دیں تو وہ بغیر پاسپورٹ بھی افغانستان جا سکتے ہیں۔

Scroll to Top