پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا عمل مسلسل جاری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک ہزاروں افغان شہری پاکستان چھوڑ کر واپس افغانستان جا چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ملک کے مختلف شہروں، خصوصاً کراچی، کوئٹہ، پشاور اور راولپنڈی میں غیر قانونی افغان باشندوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جن کے باعث نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشکلات کا سامنا تھا بلکہ بعض علاقوں میں اسمگلنگ، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
تاہم یہ امر قابلِ اطمینان ہے کہ حکومت پاکستان کی پالیسی، وزارتِ داخلہ کی ہدایات اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشوں سے ملک بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل مؤثر انداز میں جاری ہے۔ اس عمل کے دوران انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو رضاکارانہ واپسی کا موقع دیا جا رہا ہے، جبکہ بارڈر پوائنٹس پر ان کی رجسٹریشن اور سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے اہم ہے بلکہ ملکی معاشی اور سماجی نظام پر غیر ضروری بوجھ کو کم کرنے کی جانب بھی ایک عملی قدم ہے۔





