سوات:صوبائی وزیرفضل حکیم اور شاہی خاندان کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرگیا

سوات میں صوبائی وزیر فضل حکیم خان اور شاہی خاندان کے درمیان جاری تنازعہ شدت اختیار کر گیا، شاہی خاندان کی جانب سے ایک بار پھر مین گیٹ کو تالے لگا دئیے جس پر صوبائی وزیر کے بھتیجے نے تالے توڑ کر سکول سے گھر جانے والے بچوں کو گھر پہنچایا۔

اس سلسلے میں جرگہ بھی ہوا تھا اور جرگے نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے مسئلے کو حل کیا تھا لیکن شاہی خاندان کی جانب سے رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں گھر کا قبضہ فضل حکیم خان کے پاس ہے ۔

میڈیا کو اپنا موقف پیش کرتے ہوئے صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کے فرزند سلمان یوسفزئی نے کہا کہ ہمارے بنگلے کا معاملہ ابھی حل نہیں ہوا ہے جبکہ بیگم صاحب نے مین گیٹ کو تالہ لگا کر ہمارا راستہ روک لیا جس پر مجبورا یہ اقدام اٹھانا پڑا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے گھر کے حوالے سے جرگہ نے فیصلہ کیا لیکن وقت پر ہمیں رقم ادا نہیں کی گئی جس پر ہم نے جرگہ ممبران کو قانون کے مطابق نوٹس دئیے ہیں اور گزشتہ روز ہمارے بچے سکول گئے تھے واپسی پر بیگم صاحب نے ہمارے گھر کے مین گیٹ کو تالے لگا ئے اور ہمارے بچے گھر کے باہر کھڑے تھے، جس کی اطلاع میرے چچا زاد بھائی کو دی گئی جس پر انہوں نے گیٹ کا تالہ توڑا اوربچوں کو گھر لے گیا۔

یہ بھی پڑھیں : ملکی معیشت کی بہتری کے دعوے زمینی حقائق کے برعکس ہیں،مشیر خزانہ مزمل اسلم

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر بیگم صاحب نے غنڈے بھی بلا رکھے تھے لیکن ہم کسی قسم کا جھگڑا نہیں کرنا چاہتے جرگہ کے مطابق جو فیصلہ ہوا تھا اس کے پر عمل نہیں کیا گیا اگر اس پر من و عن عمل ہو جاتا تو مسئلہ حل ہو جاتا۔

Scroll to Top