پیرس: فرانس کے وزیراعظم سیبیسٹیئن لیکورنو نے اپنی تقرری کے صرف 26 دن بعد وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
عالمی میڈیا کے مطابق ان کے استعفے کی تصدیق ایلیزے پیلس کی جانب سے اس وقت کی گئی جب لیکورنو نے صدر ایمانوئل میکرون سے ایک گھنٹے طویل ملاقات کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔
فرانس میں گزشتہ دو برسوں کے دوران یہ پانچواں وزیراعظم ہے جسے حکومت سازی میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونا پڑا ہے، جب کہ لیکورنو ایک سال کے اندر تیسری ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے وزارتِ عظمیٰ کا منصب چھوڑا۔
استعفے کے بعد جاری اپنے بیان میں سیبیسٹیئن لیکورنو نے کہا کہ “وزیراعظم ہونا ایک مشکل ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ سیاسی حالات میں آگے بڑھنا میرے لیے ناممکن ہو گیا تھا۔” انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “کسی میں سمجھوتے کی گنجائش نہیں، سب صرف اپنی انا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور خود کو ہی اکثریتی طاقت سمجھتے ہیں۔”
لیکورنو کی کابینہ کو اپوزیشن کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا تھا، کیونکہ اس میں اکثریتی وزراء سابق وزیراعظم فرانسوا بیرو کی ٹیم سے شامل کیے گئے تھے، جس پر مختلف سیاسی جماعتوں نے اس کابینہ کو مسترد کرتے ہوئے تحریکِ عدم اعتماد کی دھمکی دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا : 7 پی ایم ایس افسران گریڈ 17 میں تعینات
دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی (RN) کی رہنما مارین لی پین نے ایک بار پھر قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ “یہ مذاق اب ختم ہونا چاہیے، عوام مایوس اور تنگ آ چکے ہیں، نئے انتخابات ہی اس بحران کا واحد حل ہیں۔”





