ملک میں مہنگائی برقرار، 21 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں

اسلام آباد:ملک میں مہنگائی کی رفتار میں مسلسل دوسرے ہفتے بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سالانہ بنیاد پر مہنگائی کی مجموعی شرح 3.34 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 21 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 6 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 24 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔

جن اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں چکن، انڈے، آٹا، پیاز، گھی، گڑ، لہسن اور واشنگ سوپ شامل ہیں جبکہ قیمتوں میں کمی کی حامل اشیاء میں ٹماٹر، آلو، کیلے، دال چنا اور ایل پی جی شامل ہیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق مختلف آمدنی والے طبقوں پر مہنگائی کا اثر مختلف انداز سے پڑا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی ہفتہ وار شرح 0.14 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 4.14 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے آمدنی رکھنے والوں کے لیے ہفتہ وار اضافہ 0.17 فیصد اور سالانہ 4.31 فیصد رہا۔ اسی طرح 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے آمدنی والے طبقے پر مہنگائی کا ہفتہ وار اثر 0.18 فیصد اور سالانہ 5.10 فیصد رہا۔

29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ آمدنی والے افراد کے لیے یہ شرح 0.20 فیصد ہفتہ وار اور 5.15 فیصد سالانہ رہی جبکہ 44 ہزار 176 روپے سے زائد آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی کی رفتار میں 0.16 فیصد کا ہفتہ وار اضافہ اور 3.59 فیصد کا سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : روزانہ سیب کھانے کے10حیرت انگیز صحت کے فوائد

رپورٹ کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات خوراک، توانائی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہیں، جن سے سب سے زیادہ اثر نچلے اور متوسط طبقے پر پڑا ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے شدید مالی دباؤ کا باعث بنتا جا رہا ہے۔

Scroll to Top