افغانستان نے شکست چھپانے کےلئے جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والے افغان فوجیوں کی لاشیں وصول کرنے سے انکارکردیا

افغانستان نے پاک افغان بارڈر پر ہونے والی چھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشیں وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

ہفتہ کی رات افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ اور جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے زبردست جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان فورسز کی متعدد اہم پوسٹیں مکمل طور پر تباہ اور متعدد قبضے میں لے لی ہیں۔

سکیورٹی زرائع کے مطابق چمن، باجوڑ، کرم، جنوبی وزیرستان اور چترال کے قریب سرحدی مقامات پر جھڑپوں کے نتیجے میں افغانستان کے درجنوں فوجی ہلاک ہوئے تاہم افغان حکومت بھی بھارت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی شکست اور شرمندگی سے بچنے کے لئے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشیں وصول کرنے سے انکار کررہا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، طالبان اہلکار لڑائی چھوڑ کر فرار ہو گئے اور اپنی لاشیں اور اسلحہ موقع پر ہی چھوڑ گئے، جو پاک فوج کے لیے بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

باجوڑ اور کرم سے موصولہ ویڈیو فوٹیج میں افغان چوکیوں کو شعلوں کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ پاکستانی بارڈر یونٹس نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر بھی ہدفی اور مؤثر کارروائیاں کیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، چترال کے سرحدی علاقے میں افغان طالبان کی کئی پوسٹیں آرٹلری فائر کے ذریعے مکمل طور پر تباہ کر دی تھی ۔

جنوبی وزیرستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بھی متعدد افغان چوکیاں نشانہ بنائی گئیں۔ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی توپ خانہ افغان چوکیوں کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے نتیجے میں افغان افواج کی 19 چوکیاں پاکستانی افواج نے قبضے میں لے لیں تھیں۔

Scroll to Top