وزیراعلیٰ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، گورنر خیبر پختونخوا کا مؤقف سامنے آ گیا

پشاور: افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی سے متعلق اہم اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی عدم شرکت پر سیاسی قیادت کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ کے پی کی غیر حاضری کو افسوسناک قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب اس قدر اہم نوعیت کا اجلاس بلایا جائے تو اگر وزیراعلیٰ خود شریک نہیں ہو سکتے، تو صوبے کے گورنر کو نمائندگی کے لیے مدعو کیا جانا چاہیے تھا۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے، مگر بدقسمتی سے صوبے کی نمائندگی مشاورتی عمل میں شامل نہیں تھی، جو باعثِ تشویش ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ اجلاس میں شریک ہوتے تو یہ ایک مثبت پیغام جاتا۔

اُن کے بقول خیبر پختونخوا افغان مہاجرین سے براہِ راست متاثر ہے، اس لیے صوبائی حکومت کی شمولیت نہایت ضروری تھی۔

یہ بھی پڑھیں : خطے کے تمام ممالک کیساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں: ذبیح اللہ مجاہد

ادھر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مزمل اسلم نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کے 43 کیمپ موجود ہیں، جو ملک بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ کے پی حکومت کا مؤقف ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی منظم، باوقار اور مرحلہ وار طریقے سے ہونی چاہیے۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ پالیسی سازی میں خیبر پختونخوا کی مشاورت کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں، کیونکہ زمینی حقائق سے سب سے زیادہ وہی حکومت واقف ہے۔

Scroll to Top