خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حلف اٹھانے کے بعد چھ روز گزرنے کے باوجود صوبائی کابینہ تشکیل نہیں دی جا سکی، جس کے باعث حکومتی مشینری اہم پالیسی فیصلے کرنے سے قاصر ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق کابینہ کی عدم موجودگی کے باعث ترقیاتی منصوبوں کی منظوری سمیت متعدد اہم امور التوا کا شکار ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کابینہ میں چند نئے چہرے شامل کرنا چاہتے ہیں جس پر مشاورت جاری ہے، تاہم اب تک کسی بھی نام کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی۔
نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز)کے مطابق سابق مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ ’’کابینہ کی عدم تشکیل کے باعث حکومتی معاملات میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم توقع ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی رواں ہفتے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کریں گے، جس کے بعد پیش رفت متوقع ہے۔‘‘
مزمل اسلم نے مزید بتایا کہ اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہو سکی تو وزیراعلیٰ کو مختصر کابینہ کے قیام کی ہدایات موجود ہیں، تاکہ فوری طور پر گورننس کا عمل متاثر نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق دوسرے سہ ماہی کے ترقیاتی فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں، لیکن ان کے عملی اجرا کے لیے کابینہ کی منظوری درکار ہے، جس کی غیر موجودگی میں کئی منصوبے تاحال تاخیر کا شکار ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کابینہ کی تشکیل میں تاخیر سے نہ صرف انتظامی معاملات سست روی کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ سیاسی سطح پر بھی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔





