وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کو نظر انداز کرنا افسوسناک ہے،گورنر فیصل کریم کنڈی

پشاور :گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے ملاقات نہ کرنے پر شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پرپختون ڈیجیٹل کی خبرشیئرکرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء، جو کوئٹہ سے طویل سفر طے کر کے پشاور آئے، انہیں خیبرپختونخوا کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے ملاقات کا وقت تک نہ دیا گیا۔

گورنر نے کہا کہ بطور صوبے کے چیف ایگزیکٹو، وزیراعلیٰ کو چاہیے تھا کہ وہ ایسی وفود کا خیرمقدم کرتے اور خیبرپختونخوا کی نمائندگی وقار اور احترام کے ساتھ کرتے۔ قیادت کا تقاضا شمولیت ہے، لاتعلقی نہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ ایسے مواقع کو بین الصوبائی ہم آہنگی، سیاسی اتحاد اور خیبرپختونخوا کے مثبت اور تعمیری تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

گورنر نے کہا کہ گورنر ہاؤس کے دروازے ہمیشہ مکالمے، تعاون اور ہر اس کوشش کے لیے کھلے ہیں جو اتحاد کو فروغ دے اور خیبرپختونخوا کے ترقی پسند اور نرم تشخص کو نمایاں کرے۔

واضح رہے کہ آج  خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے 17ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان  کے شرکاء سے ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔

نیشنل ورکشاپ بلوچستان کےشرکاء نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی کے کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے بھی ورکشاپ میں شرکت کرنے والوں سے ملاقات نہیں کی۔ شرکاء کو کھانے کے طور پر صرف پیکٹڈ خوراک فراہم کی گئی۔

بلوچستان کے سینئر وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے ملاقات نہ کرنا روایات کے بالکل خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ رویہ پشتون، بلوچ اور اسلامی ثقافت کی روح کے بھی برعکس ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بلوچستان آنے کی دعوت دی اور کہاآئیں اور دیکھیں کہ ہم آپ کا کتنا عزت و احترام کرتے ہیں، ہم آپ کو پشتون اور بلوچ روایات کے مطابق کھانا بھی دیں گے اور عزت بھی کریں گے۔

سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ انہیں اس صورتحال پر بہت دکھ ہوا ہے اور سوال کیا کہ فیلڈمارشل سے زیادہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی کیا مصروفیت ہے؟ فیلڈمارشل نےپاکستان بھرسےآئے شرکا کیلئے 5 گھنٹے نکالے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پیکٹڈ کھانے نہیں دیں گے بلکہ دسترخوان سجائیں گے اور بطور احتجاج ہم آپ کا دیا ہوا کھانا نہیں کھا رہے۔

Scroll to Top