وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
کابینہ نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت ٹی ایل پی پر پابندی لگانے کی سفارش کو منظور کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ٹی ایل پی پر پابندی سے متعلق سمری زیر غور آئی۔ کابینہ نے سمری کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی سیکشن 11B(1) کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں 2021 میں بھی ٹی ایل پی پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم سات ماہ بعد پی ٹی آئی حکومت نے یہ پابندی واپس لے لی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب حکومت کی تحریک لبیک پر پابندی کی منظوری، سمری وفاق کو ارسال
پنجاب حکومت نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے فیصلے کے تحت باقاعدہ سمری وفاقی حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے جس میں جماعت پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پابندی کی تجویز گزشتہ دنوں ہونے والے پرتشدد مظاہروں اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کے واقعات کے بعد دی گئی ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج غزہ کے امن معاہدے کے بعد کیا گیا، سوال یہ ہے کہ کیا پولیس کی گاڑیاں جلانے سے غزہ کا مسئلہ حل ہو گیا؟
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پرتشدد مظاہرے کرنے والے عناصر ملک اور عوام دونوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے، ایسی سرگرمیوں کی آڑ میں امن و امان کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں اور کسی بھی شدت پسندانہ بیانیے کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔
عظمیٰ بخاری نے تاجر برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہڑتال کی کال کو مسترد کرنے پر تاجر برادری کے شکر گزار ہیں، حکومت ایسے عناصر کو عوامی زندگی متاثر کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی۔





