پاکستان ٹی20 ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ ایشیا کپ کی غلطیوں سے سیکھا ہے،اب انہیں دہرانا نہیں چاہتے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران سلمان علی آغا نے کہا کہ ایشیا کپ میں کافی کچھ سیکھنے کو موقع ملا، اب انہی غلطیوں سے سبق لے کر ٹی20 ورلڈ کپ کی تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم کے اندر غلطیوں پر بات ضرور کی جاتی ہے کیونکہ ہم انہیں دہرانا نہیں چاہتے، میری پوری کوشش ہوگی کہ ٹیم کو کامیابی دلاؤں۔
ٹی20 کپتان نے مزید کہا کہ ہم جس بھی گراؤنڈ پر کھیلتے ہیں، اُس کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اوسط اسکور سے زیادہ رنز بنائیں، ٹی20 ورلڈ کپ تک ہماری یہی حکمتِ عملی برقرار رہے گی۔
سلمان علی آغا کا کہنا تھا کہ حالیہ دو تین سیریز میں میری انفرادی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی، تاہم میری پہلی ترجیح ہمیشہ بیٹنگ ہوتی ہے، اگر ٹیم کو ضرورت پڑی تو بولنگ بھی کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ بابراعظم کے پاس سو سے زائد ٹی20 میچز کا تجربہ ہے، وہ ورلڈ کلاس کھلاڑی ہیں اور ان کی شمولیت ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔
سلمان علی آغا نے واضح کیا کہ “مائک ہیسن مجھے کوئی پیغام نہیں بھیجتے، میں خود گراؤنڈ میں فیصلے کرتا ہوں۔” ان کا کہنا تھا کہ ڈیتھ اوورز میں بولنگ کے شعبے کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں کپتان ہوں، میری رائے سلیکشن میں شامل ہوتی ہے۔ بیٹرز کو اپنے اسٹرائیک ریٹ پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ عبدالصمد، حسن نواز اور محمد نواز کو پاور ہٹنگ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
کپتان کا کہنا تھا کہ ٹرائی نیشن سیریز اور ایشیا کپ کا فائنل کھیلنا ٹیم کے لیے مثبت پہلو ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سوشل میڈیا پر پاکستانی پاسپورٹ سے متعلق افواہیں، اصل حقیقت سامنے آگئی
انہوں نے کہا کہ “پنک میچ پہلی بار ہو رہا ہے، اس کے لیے بہت پرجوش ہوں۔ ہم 15 دستیاب کھلاڑیوں پر فوکس کر رہے ہیں، جو ٹیم میں نہیں ہیں انہیں یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔”





