پاکستان تحریک انصاف کے اندر دو طرح کی سوچ پائی جاتی ہے، ندیم افضل چن

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر دو مختلف سوچیں پائی جاتی ہیں اور پارٹی میں واضح تناؤ موجود ہے۔

ندیم افضل چن نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتوں نے حمایت دی ہے، لیکن خیبر پختونخوا اور وفاق کے درمیان اختلافات سے دہشت گرد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے محمود خان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کو نیک شگون قرار دیا اور کہا کہ ان کے نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اور نیک نیتی کے ساتھ نظام چلنا چاہیے۔

ندیم افضل چن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میں ایک گروپ حکومت میں رہنا چاہتا ہے اور دوسرا گروپ حکومت چھوڑنے کے حق میں ہے، اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے جاری تنازعہ پارٹی میں کشیدگی بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے خرم دستگیر کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قید میں موجود لیڈر سے ملاقات میں کوئی حرج نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلی سہیل آفریدی کی جو ون آن ون ملاقات ہوئی کیا اس کی اجازت بھی بانی سے لی گئی تھی؟ایمل ولی خان

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو صحت اور تعلیم میں اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے اور صوبے میں انتظامی غیر سنجیدگی موجود ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو کافی آزادی حاصل ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ گندم کی آزادانہ نقل و حرکت ہر صوبے کے کسان کے لیے یقینی بنائی جائے تاکہ وہ اپنی پیداوار جہاں چاہے فروخت کر سکے۔

Scroll to Top