جب تک ہم آئین کو نہیں مانیں گے، ملک نہیں چلے گا، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: سابق وزیرِاعظم اور عوامِ پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی کے بغیر استحکام ممکن نہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان باصلاحیت اور محنتی ہیں، انہیں معیاری تعلیم اور بہتر روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ذمہ داری معیشت کو مستحکم کرنا ہے، کیونکہ سیاست اور معیشت ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کا معاملہ براہِ راست آزاد کشمیر کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت نے اگست 2019 میں اپنے آئین میں تبدیلی کرکے مقبوضہ کشمیر کو ضم کر لیا، اب ہمیں بھی سوچنا ہوگا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے کیا نظام اپنایا جائے۔

شاہد خاقان عباسی نے تجویز دی کہ ملک میں ٹروتھ کمیشن قائم کیا جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں : یونس خان نے اپنا میڈیا ہاؤس لانچ کردیا

ان کے مطابق آج پاکستان میں آئین کے تقریباً ہر آرٹیکل کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، جبکہ کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی ضرورت قانون کی حکمرانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک آئین کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی، ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

Scroll to Top