پاکستان اور افغانستان کا جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق، مذاکرات کا اگلا دور نومبر میں ہو گا

پاکستان اور افغانستان نے جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے، امن مذاکرات کا اگلا دور نومبر کے پہلے ہفتے میں  ہو گا۔

پاک افغان مذاکرات کے حوالے سے حکومتی عہدیداروں نے کہا ہے کہ نومبر کے پہلے ہفتے مذاکرات کا ایک اور دور ہوگا اور دونوں جانب سے امن کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک اور مذاکراتی ٹیم کے دیگر ارکان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ دشمنی یا دہشتگردی کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھانے کے لئے تیار ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے، ہم امن چاہتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہم دہشتگردی کے خلاف ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے اور دہشتگردی کے خلاف کسی بھی قسم کا قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔

وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ حکومت نے امن کو ایک اور موقع دیا ہے اور مذاکرات میں اپنا موقف پیش کیا اور اس پر ڈٹا رہا۔

انہوں نے سیز فائر کے عمل میں دوست ممالک کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ دوست ممالک کی وجہ سے سیز فائر ممکن ہوا،انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہم نے امن کو ایک اور موقع دیا اور پاکستان نے مذاکرات کے دوران اپنا موقف واضح رکھا۔

بیرسٹر دانیال چودھری نے پاک افغان مذاکرات کے مشترکہ اعلامیہ کو بہت بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ مشترکہ مانیٹرنگ سسٹم اور میکنزم کے بارے میں بات چیت 6 نومبر کو طے کی جائے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کے بعد افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی نہیں ہوگی اور کہا کہ خلاف ورزی پر پاکستان افغانستان میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان استنبول مذاکرات میں جنگ بندی پر متفق ہوگئے

بیرسٹر دانیال چودھری نے مزید کہا کہ 6 نومبر کو طے ہونے والا میکنزم اور مانیٹرنگ سسٹم مشترکہ سطح پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو واضح کرے گا جس کا مقصد سرحد پار کارروائیوں اور ممکنہ خلاف ورزیوں کی نگرانی اور روک تھام ہے۔

Scroll to Top