طورخم بارڈر کو کل بروز ہفتہ صبح 9 بجے سے صرف افغانستان واپس جانے والے افغان خاندانوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اس موقع پر تجارتی سرگرمیاں اور دونوں اطراف پیدل مسافروں کی آمد و رفت بدستور معطل رہے گی ۔
محکمہ کسٹم کے ذمہ دار حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے حوالے سے زبانی احکامات جاری کیے گئے ہیں تاہم باضابطہ نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔
اس کے باوجود، متعلقہ عملے کو کل اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہونے کی ہدایت کر دی گئی ہے تاکہ بارڈر پر افغان خاندانوں کی واپسی کا عمل منظم انداز میں انجام دیا جا سکے۔
واضح رہے کہ طورخم بارڈر کی طویل بندش سے مقامی عوام، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری طبقہ شدید متاثر ہوا ہے۔ سینکڑوں مال بردار ٹرک اور کنٹینرز بارڈر کے دونوں طرف پھنسے ہوئے ہیں جس سے تجارت اور مقامی معیشت مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اور ٹرانسپورٹرز مشکلات سے دوچار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : گورنرفیصل کریم کنڈی سے وزیراعلی خیبرپختونخوا کی ملاقات،این ایف سی ایوارڈ پر مشاورت
ادھر پاکستان اور افغانستان کے درمیان 6 نومبر تک سیز فائر برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ 6 نومبر کو استنبول میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ مذاکرات ہوں گے جن میں بارڈر کی صورتحال، مہاجرین کی واپسی اور تجارتی امور سمیت دیگر اہم نکات پر بات چیت متوقع ہے۔
مقامی عوام کا کہنا ہے کہ حکومت دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے مؤثر اقدامات کرے تاکہ بارڈر مستقل بنیادوں پر کھل سکے اور خطے میں معاشی سرگرمیاں بحال ہوں۔
یہ بھی پڑھیں : شمالی وزیرستان: دتہ خیل میں فائرنگ، باپ دو بیٹوں سمیت قتل
یاد رہے کہ لنڈی کوتل میں کسٹم کلئیرنگ ایجنٹس اور مقامی لوگوں نے طورخم بارڈر کھولنے کے لئے گزشتہ روز بھی مظاہرہ کیا تھا اور ہفتے کے روز دوبارہ مظاہرے کرنے کی کال دے رکھی ہے۔





