اسلام آباد : پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا ہے کہ پارٹی کو اس وقت اندرونی معاملات سوشل میڈیا پر لانے سے گریز کرنا چاہیے اور اختلافات ٹیلی فون یا اندرونی مشاورت کے ذریعے حل کیے جانے چاہیں۔
انھوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پارٹی رہنماؤں خصوصاً سلمان اکرم راجہ کی سوشل میڈیا تقاریر پر تنقید کی اور کہا کہ اختلافی باتیں عوامی فورمز پر نہیں آنی چاہئیں۔
علی محمد خان نے کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے کہا کہ اُنہیں امید ہے کہ وزرا عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے اور بانیِ تحریکِ انصاف و عوام دونوں کابینہ سے بہت توقعات رکھتے ہیں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھرپور حمایت کا یقین دلایا اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے ذریعے اٹھائے گئے بعض اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب جب سہیل آفریدی نے ان افراد پر اعتماد کیا ہے تو ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
قومی سربراہی امور پر تبصرہ کرتے ہوئے علی محمد خان نے وزیراعظم شہباز شریف سے کہا کہ اگر صوبے کے وزیرِ اعلیٰ ملاقات کے لیے آ رہے ہیں تو اُن کی بانیِ پی ٹی آئی سے ملاقات کو یقینی بنایا جائے، نیز جہاں تک بین الصوبائی یا سرکاری سطح کے رابطے ہیں وزیراعظم واضح کریں کہ وہ کس سے اجازت یا مشاورت کرتے ہیں۔
انہوں نے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کو بھی اپنے بیانات میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ ایک اسلامی ایٹمی ملک کے وزیر دفاع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، نوٹیفکیشن جاری
دہشت گردی کے خلاف اپنے تند و تیز موقف کا اظہار کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا دہشت گرد اگر ہمیں ایک گولی مارتا ہے تو ہمیں دس مارنی چاہئیں۔
یہ جملہ انہوں نے صوبے میں امن لانے کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ تاہم یہ بات بھی واضح کی گئی کہ امن کے حصول اور استحکام کے لیے اداروں اور سیاسی قوتوں کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔
آخری حصے میں علی محمد خان نے دوبارہ زور دیا کہ پی ٹی آئی کو اس وقت داخلی یکسوئی برقرار رکھنی چاہیے تاکہ سیاسی محاذ پر یکجا رہ کر عوامی مسائل پر توجہ دی جا سکے۔





