اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اسد قیصر، شبلی فراز، عمر ایوب اور علی نواز اعوان سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
عدالتی حکم کے مطابق تمام ملزمان کو 11 نومبر کو گرفتار کرکے عدالت کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ وارنٹ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے جاری کیے۔
مذکورہ پی ٹی آئی رہنما تھانہ سی ٹی ڈی میں درج ایک مقدمے میں نامزد ہیں، جس میں ان پر دہشت گردی، عوام کو اشتعال دلانے اور امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : آڈیو لیک کیس: سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے آڈیو لیک کیس میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت علی امین گنڈاپور کی جانب سے کوئی بھی نمائندہ پیش نہ ہوا جس کے باعث فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی موخر کر دی گئی۔
عدالت نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ 2022 میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے متعلق علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو لیک منظر عام پر آئی تھی، جس میں وہ ایک شخص سے اسلحے کے بارے میں استفسار کرتے سنائی دیے تھے۔
اس حوالے سے تھانہ گولڑہ میں علی امین گنڈاپور کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔





