پشاور: خیبرپختونخوا میں فضائی آلودگی کی روک تھام اور غیر رجسٹرڈ بھٹہ خشت کو قانونی دائرہ کار میں لانے کے لیے شروع کیا گیا اہم منصوبہ اب تک اپنے اہداف مکمل نہیں کر سکا اور بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبہ مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے اور اس کی کامیابی کا امکان کم ہو گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں 2019 سے بھٹہ خشت کو جدید زِگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا عمل شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد فضائی آلودگی کو کم کرنا اور ماحول دوست نظام کی طرف گامزن ہونا تھا۔
اس منصوبے کے تحت درجنوں بھٹہ خشت کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا تھا تاکہ مضر صحت دھوئیں کی مقدار کم ہو اور ان بھٹہ خشت کو رجسٹر کیا جا سکے۔
تاہم ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں اس وقت 1200 سے زائد بھٹہ خشت غیر رجسٹرڈ ہیں، جو مسلسل ماحول میں زہریلے مادے خارج کر رہے ہیں اور فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خطے میں امن کے لیے افغانستان کو دانشمندی سے فیصلے کرنے ہوں گے، خواجہ آصف
منصوبے کے تحت 700 بھٹہ خشت کو زِگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا، لیکن اب تک صرف 10 کے قریب بھٹہ خشت ہی اس جدید ٹیکنالوجی میں تبدیل کیے جا سکے ہیں۔
اس منصوبے میں ناکامی کے باعث وفاقی حکومت نے صوبے کو مزید فنڈز فراہم کرنے بند کر دیئے ہیں، اور یہ منصوبہ پی ایس ڈی پی سے بھی خارج کر دیا گیا ہے۔
اگر یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا تو صوبے میں فضائی آلودگی کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر سردیوں میں جب سموگ اور دھوئیں کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔





