سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیمی بل کی 56 شقوں اور 3 شیڈولز کی منظوری دے دی جس کے حق میں 64 ارکان نے ووٹ دیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے 25، ن لیگ کے 20 اور 6 آزاد سینیٹرز نے بل کے حق میں ووٹ دیا۔ ایم کیو ایم کے 3، اے این پی کے 3، باپ کے 4 اور ق لیگ کے ایک سینیٹر نے بھی حمایت کی۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی (ف) کے سینیٹر احمد خان نے بھی آئینی ترمیم کی حمایت کی جبکہ باقی پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل، ایم ڈبلیو ایم اور جے یو آئی (ف) کے سینیٹرز نےترمیم کی مخالفت کی۔
نیشنل پارٹی کے واحد سینیٹر جان محمد بلیدی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے حقِ رائے دہی استعمال نہیں کیا۔ علاوہ ازیں ن لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی علالت کے باعث اجلاس میں موجود نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں : جنوبی وزیرستان،سکیورٹی فورسز نے کیڈٹ کالج وانا پر فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنا دیا
ترمیم کے منظوری کے عمل کے آغاز پر ایوان میں شور شرابہ بھی دیکھا گیا، اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
وزیر قانون نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے تمام سینیٹرز کے تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آئینی عدالت کے قیام کا نکتہ میثاق جمہوریت میں شامل تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مشترکہ کمیٹی اجلاس میں تمام جماعتوں نے تجاویز پیش کیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس ترمیم کی تیاری میں بھرپور کردار ادا کیا، اور بعض شقوں میں مشاورت کے بعد اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک متوازی آئینی عدالت نہیں ہے۔
سینیٹ میں حکمران اتحاد کے علاوہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) کے ایک ایک رکن نے بھی ترمیم کی حمایت کی، جبکہ سینیٹر عرفان صدیقی اور جان محمد بلیدی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے اراکینِ قومی اسمبلی کی موجودگی پر بھی اعتراض کیا۔





