بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی کےعلاقے لال قلعے کےقریب ہونے والے دھماکے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
زرائع کے مطابق یہ واقعہ ایک مبینہ فالس فلیگ آپریشن تھا، جس کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے پہلگام کے واقعے میں ہوا تھا۔
بھارتی حکام پر سوشل میڈیا پر الزام تراشی کی جارہی ہے کہ انہوں نے اس دھماکے کو پاکستان پر ڈال کر اپنی ناکامیوں اور مداخلت سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔
اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا ہینڈلرز نے تحقیقات اور تصدیق کے بغیر پاکستان کو ذمہ دار قرار دیا حالانکہ سچے حقائق سامنے نہیں آئے تھے۔
بھارتی ٹی وی ریپبلک کے مطابق مختلف ذرائع سے تصدیق ہوئی ہے کہ یہ دھماکہ دراصلCNG سلنڈر کے پھٹنے کی وجہ سے ہواجس میںشہریوں کو نقصان پہنچا۔ واقعہ نئی دہلی کے مصروف علاقے میں پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں :افواج پاکستان نے 4 دن میں بھارت کو شکست فاش دی، وزیراعظم
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ افواج پاکستان نے صرف چار دن کی جنگ میں بھارت کے منہ پر تھپڑ رسید کر کے اپنی جنگی صلاحیت کا لوہا منوایا۔
آذربائیجان کے یوم فتح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن قومی سلامتی پر کسی صورت آنچ نہیں آنے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی جنگی صلاحیتیں دیکھیں اور دشمن کے سات جنگی طیارے مار گرائے گئے۔
وزیراعظم نے بھارت کی جارحیت کے دوران ترکی اور آذربائیجان کی بھرپور یکجہتی پر بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستانی عوام کی طرف سے آذربائیجان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، آذربائیجان اور ترکی تینوں برادر ملک ہیں اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور تینوں نے متعدد بار اپنی دوستی اور یکجہتی کا ثبوت دیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آذربائیجان کے یوم فتح کی تقریب میں شرکت میرے لیے باعث افتخار ہے اور معرکہ حق کی کامیابی کے جشن میں آذربائیجان کے دستے کی شرکت بہت اہمیت کی حامل تھی۔





