افغانستان میں دہشتگردوں کی اسلحے تک رسائی علاقائی امن کے لیے براہِ راست خطرہ ہے، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کو غیر قانونی اسلحے کی فراہمی کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں جدید اسلحے اور گولہ بارود کے ذخائر کی موجودگی نہ صرف افغانستان بلکہ اس کے پڑوسی ممالک کے لیے بھی تشویشناک ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد گروہ افغانستان سے آزادانہ طور پر کارروائیاں کر رہے ہیں، اور مستند اطلاعات کے مطابق وہ انہی ذخائر سے اسلحہ اسمگل کر کے پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان۔افغان سرحد سے برآمد ہونے والا بیشتر اسلحہ وہی ہے جو غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑا گیا تھا۔

عاصم افتخار نے مزید کہا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ خصوصاً داعش، تحریک طالبان پاکستان (TTP)، بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور مجید بریگیڈ جدید ہتھیاروں سے پاکستان کے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد 28 ویں ترمیم بھی متوقع ہے، رانا ثنا اللہ

پاکستانی مندوب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کی اسلحے تک رسائی روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔

ساتھ ہی افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے بین الاقوامی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری یقینی بنائے تاکہ خطے میں پائیدار امن و سلامتی کو فروغ دیا جا سکے۔ا

Scroll to Top