پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے زیر اہتمام امن جرگہ کا انعقاد ایک خوش آئند قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرگہ پختونوں کا وہ روایتی فورم ہے جس کے ذریعے بڑے سے بڑے اور مشکل فیصلے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے امن جرگہ بلانے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امن کے قیام کی ضرورت کو محسوس کیا جا رہا ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک جرگے کے مطالبات کا تعلق ہے، جب تک صوبائی حکومت خود ان مطالبات پر عمل درآمد کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی، تب تک یہ صرف یک طرفہ باتیں رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کمزور نہیں، اس کے پاس واضح اکثریت موجود ہے، اگر وہ سنجیدگی سے مذاکرات کا آغاز کرے تو امن کی بحالی کی ذمہ داری بھی قبول کر سکتی ہے۔
اے این پی رہنما نے مزید کہا کہ ماضی میں ہم نے مرکزی حکومت کی موجودگی میں مذاکرات کیے تھے، اس وقت ہم نے ذمہ داری لی تھی، پھر آپریشن ہوا اور ہم نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : قومی اسمبلی کا اجلاس: 27 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور
تاہم اگر موجودہ صوبائی حکومت یہ ذمہ داری لینے سے گریز کرتی ہے تو جرگہ کے مطالبات صرف باتوں تک محدود رہ جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ اس بار صرف مطالبات تک بات محدود نہیں رہے گی بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہمارا بنیادی مقصد امن کا قیام اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ کرے کہ ہم اس مقصد میں کامیاب ہوں اور خیبرپختونخوا ایک پرامن خطہ بن جائے۔





