پشاور: 347 طلبہ میں 64 ملین روپے کی اسکالرشپس تقسیم

کاشف الدین سید

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے 347 طلبہ میں 64 ملین روپے مالیت کے سکالرشپس تقسیم کیے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقدہ تقریب میں وزیر اعلیٰ نے خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے اضافی 300 ملین روپے فنڈز کا بھی اعلان کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ طلبہ ملک اور صوبے کا مستقبل ہیں اور ان میں سرمایہ کاری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں مارکیٹ سے ہم آہنگ مضامین متعارف کروائے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد نہ صرف نوکری حاصل کریں بلکہ خود روزگار پیدا کرنے کے قابل بھی بنیں۔

وزیر اعلیٰ نے انٹرنشپ پروگرام کے آغاز کا بھی اعلان کیا تاکہ طلبہ تعلیمی اختتام پر بے روزگار نہ رہیں اور عملی تجربہ حاصل کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام پالیسیاں عوام کے مفاد کے لیے ہوں گی اور حکومت بہتر گورننس فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تقریب میں صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، محکمہ اعلیٰ تعلیم کے حکام، جامعات کے سربراہان اور طلبہ نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں : سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن امن ہم سب کا مشترکہ ہدف ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل محمد آفریدی نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن امن ہم سب کا مشترکہ ہدف ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل افریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومت کی پالیسی گائیڈلائنز اور آئندہ اقدامات پر غور کیا گیا وزیراعلیٰ نے اجلاس کے دوران کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہیں لیکن امن سب کا مشترکہ ہدف ہے۔

وزیر اعلیٰ نے امن جرگے میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی اسمبلی کی تمام قراردادوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، ان میں سب سے اہم قرارداد ایکشن اِن ایڈ آف سول پاورز کے خاتمے سے متعلق ہے جو بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔

وزیراعلیٰ نے ریڈیو پاکستان پر 9 مئی کے حملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا، کمیشن تمام شواہد، بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج، جمع کر کے اپنی رپورٹ کابینہ کو پیش کرے گا۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ سود سے پاک خیبرپختونخوا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے پالیسی اور اسلامک انوسٹمنٹ متعارف کروائی جائیں گی۔

کابینہ اجلاس میں صوبائی اسمبلی کی متفقہ قرارداد پر بھی زور دیا گیا جس میں بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک کے خلاف تشویش ظاہر کی گئی

Scroll to Top