نیو یارک: اقوام متحدہ نے امریکی امداد کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ قرار دے دیا ہے، جبکہ یورپی یونین دوسرے اور متحدہ عرب امارات تیسرے نمبر پر رہا۔
اقوام متحدہ کے ادارے یو این آفس فار کوآرڈینیشن آف ہیومینیٹیرین افیئرز (UNOCHA) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ نے رواں سال 3.57 بلین ڈالر امداد کے طور پر فراہم کی، جو عالمی امداد کا 14.9 فیصد بنتا ہے۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات نے 1.46 بلین ڈالر کی عالمی انسانی امداد دی، جو اقوام متحدہ کے مطابق مجموعی امداد کا 7.1 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں مجموعی امدادی رقم 20.5 بلین ڈالر رہی، جس میں امریکہ اور یورپی یونین پہلے دو نمبر پر رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں سال فلسطین کو عالمی امداد کا سب سے بڑا حصہ فراہم کیا گیا، جس میں 44 فیصد رقم دی گئی۔
علاوہ ازیں سوڈان کے بحران کے لیے 600 ملین ڈالر جبکہ افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے فوری امداد بھی فراہم کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی سفارتی گونج: اقوامِ متحدہ نے حقِ خود ارادیت کی قرارداد منظور کرلی
یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی نے پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی، جس میں اُن تمام اقوام اور عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کی توثیق کی گئی ہے جو اب بھی نوآبادیاتی، غیر ملکی یا بیرونی جبر کے زیرِ اثر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان کے مستقل مندوب اقوامِ متحدہ، سفیر عاصم افتخار احمد نے 65 ممالک کی مشترکہ حمایت سے یہ قرارداد پیش کی، جسے 1981 سے مسلسل پاکستان عالمی فورمز پر اٹھاتا آ رہا ہے۔
قرارداد میں واضح کیا گیا کہ اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصول اور منشور کے مرکز میں حقِ خود ارادیت کا تصور موجود ہے، اور دنیا کی وہ قومیں جو اب بھی آزادی سے محروم ہیں—جِن میں فلسطین اور کشمیر کے عوام بھی شامل ہیں—بین الاقوامی برادری کی خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔





