پشاور: پشاور میں اس سال سردیوں کا آغاز معمول سے زیادہ خشک اور یخ بستہ ہواؤں کے ساتھ ہوا ہے، جس کے باعث شہریوں خصوصاً بزرگوں، بچوں اور خواتین میں سانس کی نالی اور دیگر موسمی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں نمی کی مقدار میں نمایاں کمی اور رات کے وقت درجہ حرارت میں اچانک کمی شہریوں میں بیماریوں کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ بن رہی ہے۔
خشک سردی بیماریوں کی اصل وجہ
پشاور کی جغرافیائی ساخت—جس میں میدانوں کی اکثریت اور پہاڑی سلسلوں کی کمی شامل ہے—خشک سرد ہواؤں کے رہنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔
فضا میں نمی کم ہونے سے گلے کی حفاظتی جھلیاں خشک ہو جاتی ہیں، سانس کی نالی حساس اور سوزش کا شکار ہو جاتی ہے، جس سے وائرسز اور بیکٹیریا کے حملے آسان ہو جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے شہر میں خشک کھانسی، گلے کی خراش، الرجی اور سانس لینے میں دشواری جیسے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھ گیا
خشک موسم اور موسمی بیماریوں کے باعث لیڈی ریڈنگ ہسپتال، خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں روزانہ سینکڑوں مریض طبی معائنہ کرانے پہنچ رہے ہیں۔
ڈاکٹرز کے مطابق کھانسی اور گلے کی خراش کے مریض 30 سے 40 فیصد تک بڑھ گئے ہیں، دمہ اور الرجی کے مریضوں میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے، جبکہ بچوں میں ٹانسلز، فلو اور بخار کے کیسز بھی نمایاں طور پر بڑھ رہے ہیں۔ طبی ماہرین اس صورتحال کو خشک سردی کا حملہ قرار دے رہے ہیں۔
فضائی آلودگی کے باعث خطرات مزید بڑھ گئے
پشاور کے کئی علاقوں—رنگ روڈ، چارسدہ روڈ، حیات آباد اور اندرون شہر—میں فضائی آلودگی پہلے ہی تشویشناک سطح پر ہے۔خشک موسم میں گرد و غبار طویل وقت تک فضا میں رہتا ہے جس سے سانس کی نالی پر آلودگی کا اثر دوگنا ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دمہ مریضوں میں سانس لینے میں دشواری، خشک کھانسی کے شدید دورے اور سینے میں گھٹن کے کیسز میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
سب سے زیادہ بچے متاثر
اسکول جانے والے بچوں میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور خشک سرد ہوا براہِ راست گلے کو متاثر کرتی ہے۔
بیشتر تعلیمی اداروں نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ بچے اسکول بھیجتے وقت، گرم کپڑے پہنائیں،ماسک لازمی لگوائیں، اور پانی کی بوتل ضرور دیں۔
گھریلو خواتین اور بزرگ زیادہ خطرے میں
گھروں میں ہیٹر کے استعمال سے ہوا مزید خشک ہو جاتی ہے جس سے ناک سے خون آنا، جلد کی خشکی، آنکھوں میں جلن اور بھاری سانس جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں۔
بزرگ شہریوں میں جوڑوں کا درد، بخار، کھانسی اور نمونیا کی علامات بھی زیادہ شدت سے رپورٹ کی جا رہی ہیں۔
اہم احتیاطی تدابیر
1. ہیٹر کے ساتھ پانی کا برتن رکھیں تاکہ نمی برقرار رہے۔
2. گھروں میں ہیومیڈیفائر کا استعمال فائدہ مند ہے۔
3. نیم گرم پانی کا بار بار استعمال گلے کے انفیکشن سے بچاتا ہے۔
4. بھاپ لینا خشک کھانسی اور خراش کے لیے مفید ہے۔
5. شہد، تلوں کا حلوہ اور ادرک والی چائے سردیوں میں بہترین ہیں۔
6. چہرے اور ہاتھوں پر موئسچرائزر یا ناریل/زیتون کا تیل لگائیں۔
7. ماسک کا استعمال دھول مٹی اور سرد ہوا کے اثرات کو کم کرتا ہے۔
پشاور میں خشک سردی ہر سال شہریوں کے لیے مسائل پیدا کرتی ہے، تاہم اس مرتبہ صورتحال خاصی شدید ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں مناسب احتیاط، گھروں میں نمی برقرار رکھنا، غذائیت کا خیال اور بروقت طبی مشورہ ہی بیماریوں سے بچاؤ کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔





