وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کیلئے ایک ہزار ارب کا پیکج لارہے ہیں۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے بیٹ رپورٹرز سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ضم شدہ اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا پیکج لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جی ٹی روڈ اور لنک روڈ پر انڈر پاسز کا افتتاح کیا جا رہا ہے جبکہ نوجوانوں کے لیے انٹرنشپ پالیسی جلد متعارف کرائی جائے گی۔
سہیل آفریدی نے کہا صوبائی حکومت بلین ٹری سونامی، پناہ گاہوں اور ہیلتھ کارڈ پروگرام کو مزید فعال بنارہی ہے جبکہ بلین ٹری پلس منصوبے کا بھی افتتاح کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پشاور کے لیے پانچ ہزار کمروں پر مشتمل ایک نیا اسپتال بنانے کی تیاری مکمل ہوچکی ہے، اس کے علاوہ ڈی آئی خان اور سوات موٹر وے پر کام جاری ہے اور کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں کا بڑا اسپتال بھی تعمیر کیا جائے گا،صوبے میں سولہ ہزار اساتذہ کی بھرتی میرٹ پر کی جائے گی۔
بیٹ رپورٹرز سے ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ حکومت کے ہر وار کا توڑ ان کے پاس موجود ہے اور وہ جو اقدام کرنے جا رہے ہیں، اس کا جواب حکومت کے پاس نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اڈیالہ صرف ایک بات کرنے جارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کبھی ایف آئی اے اور کبھی الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹس بھیجے جاتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جہاں سیاسی چوٹ پہنچانا چاہتے ہیں وہیں مخالفین کو تکلیف ہورہی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ لوگ نہ آئین مانتے ہیں نہ قانون اور چاہتے ہیں کہ ہمیں دیوار سے لگا دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جیل ملاقاتیں جیل حکام کے اختیارات میں، وزیراعلیٰ کی مداخلت نہیں، عظمیٰ بخاری کا سہیل آفریدی کے خط پر جواب
سہیل آفریدی نے کہا کہ اپنے لیڈر سے ملاقات کے لیے ان کے پاس احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا کیونکہ وہ تمام جمہوری طریقے آزما چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظور کروائی، چیف جسٹس کو خط لکھا اور ہائیکورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین نے مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی ہے لیکن ان کے پاس اختیار نہیں اور جب اختیار رکھنے والے لوگ سامنے آئیں گے تب ہی حقیقی بات چیت ہوسکتی ہے۔
الیکشن کمیشن کے نوٹس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں نوٹس موصول ہونے کا لیٹ پتہ چلا اور صرف دھاندلی نہیں ہونی چاہیے کہنے پر انہیں نوٹس بھیج دیا گیا۔





