امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ختم کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ انہوں نے برازیل کے صدر سے بات کی ہے اور جلد ہی ملاقات بھی کریں گے۔
صدر نے کہا کہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے رابطے جاری ہیں اور مستقبل میں مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں دلچسپی ظاہر کرتا ہے۔
امریکی سینیٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس یوکرین جنگ ختم کرنے کے 28 نکاتی منصوبے پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ماسکو کی جارحیت کو انعام دے گا اور دیگر ممالک کے رہنماؤں کے لیے خطرناک پیغام بھیجے گا۔
منصوبہ ٹرمپ انتظامیہ اور کریملن نے تیار کیا ہے لیکن یوکرین کی شمولیت کے بغیر اس میں روس کی کئی مانگیں شامل ہیں جن میں بڑے علاقوں کی واپسی بھی شامل ہے، جسے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے متعدد بار مسترد کیا ہے، ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یوکرین اگلے ہفتے تک اس منصوبے کو قبول کرے۔
ہالیفیکس انٹرنیشنل سیکیورٹی فورم میں سینیٹرز نے منصوبے کو جارحیت کو انعام دینے والا قرار دیا۔
آزاد سینیٹر انگس کنگ نے اسے 1938 کے منیچ پیکٹ سے تشبیہ دی، جو ہٹلر کو خوش کرنے کی ناکام کوشش تھی۔
ری پبلکن سینیٹر تھام ٹلیس نے کہا کہ سابق رہنما مچ مکونل کی تنقید ناکافی تھی جبکہ ڈیموکریٹک سینیٹر جین شاہین نے اسے “ناانصافی” قرار دیا۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ امن معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے اگر یوکرین اور یورپی اتحادی اس پر راضی ہوں۔ زیلنسکی نے منصوبے کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا لیکن منصفانہ سلوک کی ضرورت پر زور دیا اور واشنگٹن و دیگر شراکت داروں کے ساتھ تعاون کا وعدہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کی گرفتاری؟ ٹرمپ نے میئر ممدانی سے ملاقات کے بعد اہم بیان دے دیا
ہالیفیکس فورم میں تقریبا 300 افراد شریک ہوئے جن میں امریکی سینیٹرز، سفارتکار اور ماہرین شامل تھے۔
اس سال ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی دفاعی اہلکاروں کی شرکت روک دی، جس کی ایک وجہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بھی تھی۔




