صوبائی دارالحکومت میں دہشت گردی کی سنگین کارروائی کے بعد سیکیورٹی اداروں کو ایک اہم کامیابی ملی ہے، جہاں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملے سے قبل ایک دہشت گرد کی واضح تصویر سامنے آ گئی ہے
آج پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 3 ایف سی اہلکار شہید جبکہ 5 شہری زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ فورنزک ٹیمیں شواہد اکٹھے کر رہی ہیں جبکہ حساس اداروں نے واقعے کی جامع تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہی کیمروں سے حاصل ہونے والی ایک فوٹیج میں ایک دہشت گرد کی واضح تصویر سامنے آئی ہے، جس کی بنیاد پر مزید تفتیش جاری ہے۔
تحقیقاتی ٹیمیں اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ حملہ آوروں کو شہر میں اندر لانے یا سہولت دینے میں کون کون سے ممکنہ عناصر ملوث ہوسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دہشت گرد کے ممکنہ سہولت کاروں اور رابطہ کاروں کی نشاندہی کے لیے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ شہر میں کسی بھی مشکوک شخص یا سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔





