سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے اب یہ جاننا ممکن ہوگا کہ کون سا اکاؤنٹ کس ملک یا خطے سے چلایا جا رہا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ سہولت چند ہی گھنٹوں میں دنیا بھر میں فعال ہو گئی ہے اور اسے پروفائل کے حصے ’’About This Account‘‘ میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں اکاؤنٹ کے قیام کی تاریخ، مقام اور دیگر بنیادی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
یہ فیچر بالخصوص مشہور شخصیات، پبلک فگرز اور اداروں کے اکاؤنٹس کی شفافیت بڑھانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ضمنی الیکشن کی جیت نواز شریف اور پنجاب و خیبرپختونخوا کے عوام کے نام کرتی ہوں، مریم نواز
مختلف نمایاں پاکستانی سیاسی رہنماؤں کے اکاؤنٹس کے مقامات بھی اسی فیچر کے ذریعے سامنے آئے، تاہم بعض اکاؤنٹس کی لوکیشن حفاظتی وجوہات کے باعث ظاہر نہیں کی گئی۔
صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے اس نئے اقدام پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے جعلی اور مشکوک اکاؤنٹس کی شناخت کے لیے مؤثر قرار دیا، جبکہ دوسروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ تبدیلی حساس شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
دلچسپ طور پر فیچر کے فعال ہوتے ہی کئی بڑے عالمی اکاؤنٹس کی لوکیشنز بھی غیر متوقع علاقوں سے ظاہر ہوئیں، جس نے نئی بحث کو جنم دیا۔
ایکس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مقام کی نشاندہی اکاؤنٹ میں درج معلومات، آئی پی ایڈریس اور پبلک ڈیٹا کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اگر صارف نے اپنی لوکیشن خود شامل کی ہو تو وہی دکھائی جائے گی، بصورت دیگر سسٹم قریب ترین مقام ظاہر کرتا ہے۔
کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس فیچر کا مقصد پلیٹ فارم پر شفافیت میں اضافہ اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو کم کرنا ہے، جبکہ ایسے ممالک کے صارفین کے لیے خصوصی پرائیویسی ٹولز بھی شامل کیے گئے ہیں جہاں اظہارِ رائے پر پابندیاں موجود ہیں۔
صارفین اس کے لیے پروفائل میں ’’جوائنڈ‘‘ کے آپشن پر کلک کرنے کے بعد اکاؤنٹ کے قیام، مقام، نام کی تبدیلیوں اور ایپ کے سورس جیسے تفصیلات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق یہ قدم اس جانب پیش رفت ہے کہ لوگ جس اکاؤنٹ سے تعامل کر رہے ہوں، اس کی حقیقی حیثیت اور مقام کے بارے میں بہتر انداز میں جان سکیں۔





