وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے چشمہ رائٹ بینک کینال منصوبے میں طویل تاخیر پر وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا۔
وزیراعلیٰ نے اپنے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا کہ چشمہ رائٹ بینک کینال جیسے اہم منصوبے پر 35 سال گزرنے کے باوجود عملی پیش رفت نہ ہونا افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ضمنی انتخابات میں شکست،وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی شفیع اللہ جان کا درعمل
سہیل آفریدی کے مطابق 2016 میں مشترکہ مفادات کونسل نے منصوبے کی فنانسنگ کا فارمولہ طے کیا تھا جس کے تحت 65 فیصد لاگت وفاق جبکہ 35 فیصد حصہ خیبرپختونخوا ادا کرنے کا ذمہ دار تھا۔
خط میں مزید کہا گیا کہ اکتوبر 2022 میں ایکنک نے 189 ارب روپے کی لاگت سے منصوبے کی منظوری دی تھی اس کے باوجود منصوبہ آج تک شروع نہیں ہوسکا۔
وزیراعلیٰ کے مطابق چاروں صوبوں کے بڑے آبپاشی منصوبوں کے مقابلے میں واحد لفٹ کنال منصوبہ ہی ہے جس پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں : ہری پور انتخابات میں شکست،گل ظفر خان کاوزیراعلی سے مستعفی ہونےکا مطالبہ
خط میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے زمین کے حصول کے لیے رواں مالی سال میں 2 ارب روپے اور اگلے سال کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ اس سے قبل بھی مجموعی طور پر 7 ارب روپے زمین کی خریداری کے لیے رکھے گئے تھے۔ تاہم واپڈا کی جانب سے لینڈ ایکوزیشن، پروکیورمنٹ اور پری کوالیفکیشن کے مراحل سست روی کا شکار ہیں، جس کے باعث منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ضمنی الیکشن کی جیت نواز شریف اور پنجاب و خیبرپختونخوا کے عوام کے نام کرتی ہوں، مریم نواز
سہیل آفریدی نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ چشمہ رائٹ بینک کینال کی بروقت تکمیل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں کیونکہ یہ منصوبہ صوبے کی زرعی خود کفالت اور پانی کی بڑھتی ضروریات کے لیے ناگزیر ہے۔





