گزشتہ رات تقریباً بارہ بجے، افغانستان کے خوسٹ صوبے کے گوربز ضلع کے مغلگئی علاقے میں ایک مقامی شہری ولیات خان، ولد قاضی میر کے گھر میں دھماکہ ہوا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں نو بچے متاثر ہوئے ہیں، جن میں پانچ لڑکے اور چار لڑکیاں شامل ہیں۔
افغان ذرائع نے فوری طور پر الزام عائد کیا کہ یہ حملہ پاکستانی فوج کی فضائی کارروائی کا نتیجہ تھا۔ تاہم، پاکستانی حکام نے اس دعوے کی فوری طور پر تردید کر دی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی بھی قسم کی فضائی کارروائی نہیں کی۔
پاکستانی فوج ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے دھماکے یا حادثات زیادہ امکان کے ساتھ اندرونی جھگڑوں، قبائلی تنازعات یا مقامی دشمن عناصر کی کارروائیوں کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر کی تصدیق اکثر ممکن نہیں، کیونکہ یہ پرانی یا ترمیم شدہ بھی ہو سکتی ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان بعض اوقات اپنے داخلی مسائل کا الزام پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان کے پاس دہشت گردانہ حملوں کے بعد اپنے جائز ردِعمل کا حق موجود ہو۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگر کبھی بھی کسی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کا عوامی اعلان کیا جائے گا، جیسا کہ ماضی میں اسلام آباد، وانا کالج اور پشاور کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد کیا گیا تھا۔
سکیورٹی فورسز کے ذرائع نے بتایا کہ افغانستان میں اس طرح کی افواہیں اور پروپیگنڈہ اکثر بھارتی ایجنٹس یا ملک دشمن عناصر کے ذریعے پھیلائے جاتے ہیں تاکہ انتشار پیدا کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خوسٹ میں ہونے والے دھماکے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کی تصدیق اس وقت مشکل ہے۔
پاکستانی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ جب بھی پاکستان ضرورت پڑے اور کارروائی کرے گا، تو سب کو اس کی واضح اطلاع دی جائے گی۔ ماضی کے تجربات، جیسے کہ اکتوبر میں کابل میں رونما ہونے والے واقعات، اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ پاکستان کی کارروائی شفاف اور عوامی ہوگی۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ یہ حملہ پاکستانی فورسز نے کیا، تاہم یہ دعویٰ حقیقت کے برعکس ہے۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ افغانستان میں کسی بھی دھماکے کا تعلق زیادہ تر اندرونی جھگڑوں یا بدقسمتی سے بڑھتی ہوئی داخلی لڑائیوں سے ہو سکتا ہے، یا اگر کچھ عناصر ملوث ہیں تو وہ بھارت کی سرپرستی یافتہ پروپیگنڈہ کے ذریعے خوارج کے ذریعے ہو سکتا ہے
پاکستان نے اس معاملے میں واضح کیا کہ اس جھوٹے بیانیے کو افغانستان کے نئے دوست بھارت نے بھی سوشل میڈیا پر پھیلایا، تاکہ پاکستان کے جائز اور شفاف ردعمل کو مشکوک بنایا جا سکے۔





