وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی ناانصافیوں پر خاموش نہیں رہوں گا، حق کی آواز بلند کرتا رہوں گا
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے حقوق اور قوم کے مفاد کے لیے وہ ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کرتے ہیں اور سچ کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو نقصان پہنچانے والی پالیسیوں پر تنقید نہ صرف ان کا حق ہے بلکہ ان کی ذمہ داری بھی ہے، چاہے کسی کو یہ باتیں تلخ ہی کیوں نہ لگیں۔
اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو وفاق کی جانب سے 3 ہزار ارب روپے سے زائد رقم ملنی ہے، جو تاحال ادا نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق صوبہ اس مالی حق سے محروم رہے تو ترقی کا عمل متاثر ہوتا رہے گا، اس لیے وہ اپنے صوبے کے حقوق کیلئے بھرپور آواز اٹھاتے رہیں گے۔
ہری پور کے ضمنی الیکشن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ فارم 45 اور آر او کی جانب سے جاری کردہ نتائج میں واضح تضاد سامنے آیا ہے، جس کے خلاف قانونی جنگ لڑی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہو یا کوئی بھی ادارہ، سب قابلِ احترام ہیں، لیکن حقائق پر سوال اٹھانا ان کا جمہوری حق ہے۔
حویلیاں جلسے میں اپنی تقریر پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس کے حوالے سے سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی تقریر آئین اور قانون کے دائرے کے اندر تھی۔ انہوں نے صرف یہی کہا تھا کہ دھاندلی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اور اس میں غلط بات کچھ نہیں۔ انہوں نے اسے نوٹس بھجوانے کی غیر ضروری کارروائی قرار دیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ ان کی جدوجہد صوبے کی ترقی اور عوام کے حقوق کے لیے ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی سلوک بند کرے۔ انہوں نے بتایا کہ کل کے احتجاج سے متعلق اعلان سلمان اکرم راجا کریں گے اور پارٹی کی طرف سے جو بھی فیصلہ ہوگا، اس پر مکمل عمل کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے واضح پیغام دیا کہ ان کی تحریک نہ پہلے رکی تھی اور نہ آگے رکے گی۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے حقوق اور سچ کی لڑائی میں وہ کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں گے اور عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔





