کویت نے ملکی رہائشی نظام میں اہم اصلاحات کرتے ہوئے غیر ملکیوں کے لیے طویل المدت اقامہ متعارف کروا دیا ہے۔
نئے قوانین کے تحت سرمایہ کاروں، جائیداد کے مالکان اور مخصوص خاندانی کیٹیگریز کے لیے رہائشی اجازت نامے حاصل کرنا پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔
کویت کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ شیخ فہد الیوسف نے اس اصلاحی اقدام کی منظوری دی ہے، جس کے مطابق اقامہ کی مدت فرد کی اہلیت اور کیٹیگری کے مطابق مختلف ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : یو اے ای نے 9 ممالک کے ورک اور وزٹ ویزوں پر پابندی عائد کر دی
اگرچہ عام اقامہ زیادہ سے زیادہ پانچ سال کے لیے جاری کیا جاتا ہے، لیکن نئی پالیسی کے تحت بعض اہل غیر ملکیوں کو دس سال تک کے لیے اقامہ دیا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پندرہ سالہ طویل المدت اقامہ بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے لیے شرط یہ ہے کہ درخواست دہندہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق قانون نمبر 116 (2013) اور کابینہ کی جانب سے طے کردہ اضافی معیار پر پورا اترے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا شیڈول جاری، پاک بھارت ٹاکرا کب ہوگا؟تفصیلات سامنے آگئیں
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد بڑے سرمایہ کاروں کی طویل المدت معاشی شمولیت اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔
نئی اصلاحات میں کویتی شہریوں کے بچوں، وہ غیر ملکی جو کویت میں جائیداد کے مالک ہیں، اور وہ افراد جو وزیر داخلہ کے سرکاری فیصلے کے تحت شامل کیے جائیں، بھی شامل کیے گئے ہیں۔
اقامہ کے اجرا، تجدید یا کفیل یا ملازمت کی تبدیلی کے لیے وزارتِ صحت کی جانب سے زیر کفالت فرد کے نام پر جاری شدہ درست ہیلتھ انشورنس لازمی قرار دی گئی ہے اور اقامہ کی مدت بیمہ کی مدت سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔





