پاکستان میں ہر سال 20 ہزار عورتیں حمل کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتی ہے، ڈاکٹر شیر شاہ سید

پشاور : پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) اور سوسائٹی آف اوبسٹیٹریشینز اینڈ گائناکالوجسٹس آف پاکستان (SOGP) شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ لیبر میں موجود خواتین کو زون III سرکاری اسپتالوں اور دیگر سرکاری و نجی اداروں میں بغیر کسی واضح وجہ کے بے تحاشا سیزیرین سیکشنز (LSCS) کیے جا رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اعداد و شمار تشویشناک حد تک زیادہ ہیں۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان میڈیکل ایسوسییشن کے الیکٹ پریزیڈنٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ غیر ضروری سیزیرین کرنا خواتین کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور خواتین کو نارمل ڈیلیوری کا موقع سے محروم کرنا ناقابل قبول ہے۔ اس کا براہِ راست تعلق ماں اور بچے کی صحت سے ہے، اور غیر ضروری سرجری کے نتیجے میں انفیکشن، خون بہنا، زخم کا خراب ہونا، مستقبل میں حمل میں پیچیدگیاں اور دیگر صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال حمل کی وجہ سے ب ہزار خواتین موت کا شکار ہو جاتی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر ضروری LSCS کی شرح بڑھ رہی ہے، جبکہ WHO کی سفارش ہے کہ کسی بھی ملک میں سیزیرین سیکشن کی شرح 15% سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ شرح بعض اسپتالوں میں 50% تا 70% تک پہنچ چکی ہے، جو ایک سنگین صورتحال کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ، خاص طور پر نجی اسپتالوں میں LSCS ایک منافع بخش عمل بن چکا ہے، اور بعض اوقات اسے غیر ضروری طور پر کیا جاتا ہے کیونکہ فیس زیادہ ہوتی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹرز واضح میڈیکل بنیادوں پر فیصلہ کریں اور غیر ضروری آپریشن سے گریز کیا جائے۔ اور حکومت بھی سیزیرین کے خلاف عملی اقدامات کرے اور اس غیر قانونی عمل کو روکے۔

ڈاکٹر شیر شاہ سید نے کہا کہ تحقیقات اور تجربات ثابت کرتے ہیں کہ نارمل ڈیلیوری ماں اور بچے دونوں کے لیے زیادہ محفوظ ہے۔نارمل پیدا ہونے والے بچوں میں انفیکشن کم ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماں بچے کو جلد گود میں لے سکتی ہے جس سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا بچہ بہتر سانس لیتا ہے ڈاکٹر شیر شاہ سید نے کہا نارمل ڈیلیوری کے بعد ماں جلد صحت یاب ہو جاتی ہے،مستقبل کے حمل میں پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسییشن کے پریزیڈنٹ الیکٹ نے کہا کہ ہم عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ نارمل ڈیلیوری کی اہمیت کو سمجھیں، اور والدین کو چاہیئے کہ وہ ڈاکٹر سے سہولت کی بنیاد پر سیزیرین کے بجائے ضرورت کی بنیاد پر سیزیرین کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سفارش کرتے ہیں کہ تمام اسپتال—سرکاری اور نجی—اپنی LSCS پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لیں اور نارمل ڈیلیوری کو فروغ دینے کے لیے واضح پروٹوکول مرتب کریں۔ ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر صحت کے عملے کو WHO کی سفارشات کے مطابق تربیت دی جائے تاکہ سیزیرین کی شرح کم ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں : طویل المدت اقامہ،کویت نے نئی پالیسی متعارف کروادی

Scroll to Top