اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کا دھرنا ختم، پولیس سے مذاکرات کامیاب

راولپنڈی: اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکہ پر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور کارکنوں کا دھرنا 9 گھنٹے سے زائد جاری رہنے کے بعد ختم کر دیا گیا۔ شدید سردی کے باوجود بڑی تعداد میں کارکن سڑک پر موجود رہی۔

پولیس اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور پارٹی قیادت نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ بعد ازاں وہ فیکٹری ناکہ سے قافلے کی صورت میں واپس روانہ ہو گئے۔

مذاکرات کے دوران سینیٹر علامہ ناصر عباس، سلمان اکرم راجہ اور شاہد خٹک بھی موجود تھے، جنہوں نے صورتحال کو پرامن طور پر حل کرنے میں کردار ادا کیا۔

راولپنڈی سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دھرنا اس وقت ختم کیا گیا جب علامہ راجہ ناصر کی جانب سے خصوصی دعا کی گئی، جس میں نومبر کے شہداء، عمران خان کی رہائی اور ملک کی سلامتی کے لیے دعائیں شامل تھیں۔

دھرنے کے خاتمے کے باوجود شرکاء اور رہنماؤں نے عمران خان کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

علیمہ خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں مختلف افواہیں سننے کو مل رہی تھیں کہ شاید عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کر دیا گیا ہے، لیکن اس حوالے سے باضابطہ کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس سے کارکنوں کی بے چینی بڑھ رہی ہے۔

نورین نیازی نے بھی کہا کہ عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے اور اگر انہیں صرف پانچ منٹ کی ملاقات کی اجازت مل جاتی تو دھرنا فوری طور پر ختم ہو جاتا۔

شوکت بسرا نے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب تک شفاف معلومات نہیں دی جاتیں، کارکنوں کا اضطراب برقرار رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں : علیمہ خان کا جیل کی جانب مارچ، کارکنوں کی جانب سے بھرپور نعرے بازی

بعد ازاں پولیس سے مذاکرات کامیابی کے ساتھ مکمل ہونے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں گاڑی میں بیٹھ کر قافلے کی صورت میں واپس روانہ ہو گئیں اور دھرنے کے شرکاء بھی پُرامن طور پر منتشر ہو گئے۔

شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کی صحت، موجودگی اور ممکنہ منتقلی کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جائیں تاکہ افواہوں کا سلسلہ ختم ہو سکے۔

Scroll to Top