تحریک انصاف کے رہنما اور سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب کو احتجاج کیس میں اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے عمر ایوب کے خلاف 4 اکتوبر کے احتجاج کیس کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔عدالت نے اشتہاری قرار دینے کے علاوہ عمر ایوب کی جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کر لیں، تاکہ مقدمے کے قانونی پہلوؤں کی مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے حکم دیا کہ عمر ایوب کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کیے جائیں تاکہ وہ ملک سے فرار نہ ہو سکیں۔
واضح رہے کہ عمر ایوب کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت تھانہ نون میں مقدمہ درج ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے پہلے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے دیگر رہنما شبلی فراز کو بھی اسی کیس میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔
عدالت کی کارروائی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ احتجاج کے دوران ہونے والے واقعات کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اشتہاری قرار دینے کے بعد عمر ایوب کے خلاف گرفتاری کے لیے پولیس کو قانونی اختیار حاصل ہو گیا ہے، اور ساتھ ہی مقدمے کی کارروائی میں تیزی لائی جا سکے گی۔
یہ اقدام ملک میں احتجاجی سرگرمیوں اور پرامن احتجاج کی حدود کے حوالے سے عدالتی سختی کی ایک واضح مثال ہے، اور اس سے آئندہ کے سیاسی احتجاجوں پر بھی اثر انداز ہونے کی توقع ہے۔





