افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان پختونوں کا ہورہا ہے، میاں افتخار حسین

افغانستان سے تجارتی طور پر متصل مختلف اضلاع کے تاجران، چیمبر آف کامرس، کسٹم، کلیئرنس اور ٹرانسپورٹ کے ذمہ داران کا جرگہ باچا خان مرکز پشاور میں منعقد ہوا۔

جرگے میں صدر عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا میاں افتخار حسین، جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی اور ترجمان ارسلان خان ناظم نے خصوصی شرکت کی۔

جرگہ کے شرکاء نے پاک افغان بارڈر کی بندش سے یہاں کے تاجروں پرپڑنے والے اثرات سے اے این پی قائدین کو آگاہ کیا۔

جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان دونوں جانب آباد پختونوں کا ہورہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کا مسئلہ آج کا نہیں بلکہ پچاس سال پرانا ہے۔ پاکستان کے بھارت کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہیں مگرواہگہ بارڈر پر تجارت آج بھی جاری ہے۔ افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی مسلسل بندش برقرار رکھنا ناانصافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : دبئی ایئر شو حادثہ، آرمینیا نے بھارتی طیارے تیجس طیارے کی خریداری روک دی

ان کا مزيد کہنا تھا کہ ترقی یافتہ دنیا میں پڑوسی ممالک ایک دوسرے کے معاش پر مثبت اثرات ڈالنے کیلئے اقدامات کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہاں سب الٹا ہورہا ہے۔ تجارتی راستے بند کرنے سے حکمران طبقہ نہیں بلکہ سرحدی علاقوں کے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ سی پیک عالمی طاقتوں کے متضاد مفادات کے باعث رکا ہوا ہے۔ امریکہ کی جانب سے باگرام ایئر بیس کے مطالبے نے ایک بار پھر خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کا بوجھ بھی پشتونوں پر ہی پڑے گا۔

انہوں نے مزيد کہا کہ سوال یہ ہے کہ پشتونوں کے حقوق اور ان کے معاشی مسائل کی آواز کون اٹھا رہا ہے؟ اقتدار میں بیٹھے لوگ ان مسائل سے پوری طرح لاتعلق ہیں۔ اے این پی نے سینیٹ میں بھی افغانستان کے ساتھ تجارت کے حق میں آواز اٹھائی اور تورخم کی بندش کے خلاف احتجاج کیا۔ تجارت کو سیاست، دشمنی اور سکیورٹی بیانیے سے الگ ہونا چاہیے۔ اگر بھارت کے ساتھ تجارت کے باوجود دہشتگرد سرحد پار نہیں آتے تو افغانستان کے ساتھ تجارت کو دہشتگردی سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟ یہ کھلا دوہرا معیار ہے۔ باچا خان کے دور سے لے کر آج تک خپلہ خاورہ، خپل اختیار ہمارا مطالبہ ہے۔

صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے مزيد کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو اپنے تمام مسائل مذاکرات کے راستے حل کرنے چاہیئے۔ دونوں ممالک کو ہر صورت ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام یقینی بنانا ہوگا۔امن کی سب سے بڑی ضمانت تجارت ہے اور اے این پی ہر اس مطالبے کی حمایت کرتی ہے جو پشتونوں کے حقوق اور معاشی بحالی سے متعلق ہو۔ عوامی نیشنل پارٹی تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ برادرانہ اور خوشگوار تعلقات کے حق میں ہے۔ کشیدگی اور تناؤ کسی بھی طور مسائل کا حل نہیں۔ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور افغانستان کے بشمول تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر خوشگوار اور دیرپا تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔

عوامی نیشنل پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ نہ صرف تجارتی اور آمدورفت کے راستوں کو مستقل طور پر کھولا جائے بلکہ بارڈر ٹریڈ کو بڑھانے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں اور ان تجارتی راستوں پر تاجر برادری کو ہر قسم کی جدید سہولیات فراہم کی جائیں۔

Scroll to Top