پشاور ہائیکورٹ نے خواجہ سراؤں کی فلاح و تحفظ کیلئے جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا

پشاور ہائیکورٹ کا تاریخی اقدام، خواجہ سرا کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لیے حکام کو جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم، امتیازی سلوک اور غیر قانونی ضلع بدری کے الزامات کی تحقیقات عائد

تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں سے متعلق ضلع بدری اور امتیازی سلوک کے الزامات کی تحقیقات کے سلسلے میں متعلقہ حکام کو جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے سیکرٹری قانون و داخلہ سمیت دیگر حکام کو آئندہ سماعت پر خود پیش ہونے کی ہدایت جاری کی ہے

عدالت کے دو صفحات پر مشتمل مختصر حکم نامے کے مطابق، ڈپٹی سیکرٹری سوشل ویلفیئر نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ کچھ پابندیوں کے باعث خواجہ سراؤں کی بحالی اور فلاح و بہبود کے اقدامات میں تاخیر ہوئی ہے، جس پر عدالت نے سیکرٹری لاء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے صورتحال سے آگاہ کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے سماعت کو 3 دسمبر تک ملتوی کر دیا۔

درخواست گزار خواجہ سراؤں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور بعض افراد کو ضلع بدر کرکے زندگی کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ معاملہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور متعلقہ حکام بشمول آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو نوٹس جاری کر کے خواجہ سراؤں کی فلاح، تحفظ اور استحصال سے بچاؤ کی جامع رپورٹ عدالت میں جمع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ تمام شہری چاہے ان کی جنسی شناخت یا سماجی مقام کچھ بھی ہو، کو بنیادی حقوق اور تحفظ فراہم کرنا لازمی ہے۔ عدالت نے خاص طور پر خواجہ سراؤں کی زندگی، سلامتی اور عزت نفس کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

یہ فیصلہ خواجہ سرا کمیونٹی کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ صوبے میں امتیازی سلوک اور غیر قانونی ضلع بدری کے اقدامات کو روکا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : امداد کی تاخیر نے بونیر کے سیلاب زدگان کی مشکلات بڑھا دیں، 750 امدادی

Scroll to Top