پشاور:خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چئیرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی خبروں کو پروپیگنڈا قرار دے دیا ہے۔
ایک ویڈیو بیان میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بھارتی میڈیا عمران خان اور بشریٰ بی بی کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلا کر ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی چئیرمین اور ان کی اہلیہ مکمل طور پر صحت مند اور ہشاش بشاش ہیں، تاہم انہیں ناحق قید میں رکھا گیا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کا مقصد عوام میں اشتعال پیدا کرنا اور نفرت پھیلانا ہے، اور یہ منفی مہم ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کھلی سازش ہے۔
علی امین گنڈاپور نے مطالبہ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو فوری رہا کیا جائے اور ان کے خلاف قائم جعلی مقدمات ختم کیے جائیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ جھوٹے پروپیگنڈے کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوت کے ساتھ کام جاری رکھا جائے گا اور قوم اپنے قائد کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے انسانی حقوق کی پامالیوں اور انصاف کے عمل میں تاخیر پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی صحت پر افواہوں کا جواب، پی ٹی آئی اور جیل حکام کا بیان جاری
جبکہ دوسری جانب سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی خیریت سے متعلق سوشل میڈیا، افغان اور بھارتی میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں نے سیاسی ماحول میں ہلچل پیدا کر دی، جس پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آگیا ہے۔
پی ٹی آئی کی مرکزی ترجمانی کے مطابق بانی چیئرمین کی صحت کے بارے میں گھناؤنی اور بے بنیاد افواہیں پھیلائی جارہی ہیں۔
پارٹی نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور وزارتِ داخلہ فوری طور پر ان افواہوں کی کھلے عام تردید کرے اور عمران خان کی فیملی کو فوری ملاقات کی اجازت دی جائے۔
ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ قوم اپنے قائد کی صحت سے متعلق کسی قسم کا ابہام برداشت نہیں کرے گی۔
انہوں نے شفاف سرکاری بیان جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ افواہیں پھیلانے والوں کی تحقیقات کر کے اصل حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی چیئرمین کی سلامتی اور بنیادی حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے، پارٹی افواہوں کے سدباب کے لیے ہر قانونی و سیاسی قدم اٹھائے گی۔





